امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی داخلی صورتحال شدید طور پر منقسم ہے، جس کے پیش نظر پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے درخواست کی گئی کہ ایران کے خلاف کارروائی اس وقت تک روکی جائے جب تک ایرانی قیادت کسی متفقہ تجویز پر نہیں پہنچ جاتی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھے اور دیگر تمام پہلوؤں سے مکمل تیاری برقرار رکھے۔
انہوں نے مزید کہاکہ جنگ بندی میں بھی توسیع کی جا رہی ہے، جو اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی حتمی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی درخواست کی پر کی گئی جنگ بندی کی مدت بدھ کو ختم ہورہی تھی، اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ اشارہ بھی دے چکے تھے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے۔
22 اپریل بروز بدھ کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہونا تھا تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان اچانک مؤخر کردیا گیا، اور ایرانی وفد نے بھی ابھی تک پاکستان آنے کے لیے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
پاکستان بھرپور کوشش کررہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاملہ ٹیبل پر حل ہو جائے تاکہ خطے میں امن قائم ہو۔












