وزیراعظم کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی اور اس سے متعلقہ نظام کو مربوط بنانے کی منظوری

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) اور اس سے متعلقہ نظام کو مزید مربوط بنانے کی اصولی منظوری دے دی۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزرا ڈاکٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، مشیر وزیراعظم محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) اور اس سے متعلقہ نظام کو مزید مربوط بنانے کی اصولی منظوری دی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی تھری اے کی کارکردگی کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے یہ ادارہ نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرے گا۔

وزیراعظم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی استعداد میں بہتری لانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی جانچنے (کے پی آئیز) کا حصہ بنایا جائے۔ پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف اور تیز بنایا جا رہا ہے۔

اجلاس میں خطے اور عالمی سطح پر مختلف ممالک میں رائج پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز کا موازنہ پیش کیا گیا۔ اجلاس کو مجوزہ نئے نظام کے خدوخال پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری ڈویژن کرے گی۔

وزیراعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدرآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp