چین کا ایران جنگ بندی میں توسیع پر خیرمقدم، سفارتکاری کے ذریعے حل پر زور

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے ایران جنگ بندی میں توسیع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات پر دنیا کی نظریں مگر اس میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جنگ اور امن کے درمیان توازن برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔

ترجمان نے زور دیا کہ دوبارہ کشیدگی اور جارحیت کو روکنا اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

دوسری جانب ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے اور تہران نے مذاکرات کے لیے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ: امریکی دفاعی ذخائر متاثر، میزائل سپلائی پر سوالات

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا تاکہ امن مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل کیا جا سکے، تاہم اس پیشرفت پر دیگر متعلقہ فریقین کی مکمل حمایت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘