ایران امریکا مذاکرات پر دنیا کی نظریں مگر اس میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران امریکا مذاکرات میں ہوئی تازہ پیشرفت میں اہم سفارتی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس پیشرفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مذاکراتی عمل کے دوبارہ آغاز کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی برقرار رکھنے بلکہ اسے مستحکم بنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے مسلسل رابطوں، اعلیٰ سطح ملاقاتوں اور ثالثی کی کوششوں نے فریقین کو ایک بار پھر بات چیت کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کو ممکن بنانے اور جامع معاہدے پر دستخط کے لیے نئی کوششوں میں تیزی آگئی ہے۔

مزید پڑھیں: امن مذاکرات: ایران کے جواب نہ دینے پر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، امریکی میڈیا

دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی راہ ہموار

جنگ بندی میں توسیع کے بعد اب توجہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر مرکوز ہو گئی ہے، جس کے جلد آغاز کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ آئندہ مذاکرات نہ صرف زیادہ نتیجہ خیز ہوں بلکہ ایک جامع اور دیرپا معاہدے کی بنیاد بھی رکھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے راؤنڈ میں بنیادی تنازعات، بالخصوص جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں سیکیورٹی انتظامات جیسے حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ پاکستان ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ تاہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر ایران نے اِن مذاکرات میں شمولیت کی حامی بھر لی ہے لیکن ایران کی جانب سے باقاعدہ سرکاری طور پر اِس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ممکنہ طور پر اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو فریقین کی نمائندگی وہی کریں گے جنہوں نے پہلے مرحلے میں کی۔ یعنی امریکی نائب صدر وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جبکہ ایران کی جانب سے اعلیٰ سطح نمائندگی ایران پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کی تھی۔

مزید پڑھیں:’نیوکلیئر اسلامزم‘ کا بھارتی بیانیہ گمراہ کن، پاکستان اور ایران کا تقابل حقائق کے منافی قرار

امریکا کی دھمکیاں، ایران کا انتباہ اور پاکستان کی سفارتی کوششیں

ایک طرف امریکی صدر اپنے بیانات میں ایران کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو خوفناک بمباری کا سامنا کرنا ہو گا، ساتھ ہی ساتھ امریکی نیوی کی جانب سے ایران کے تجارتی بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا گیا ہے جس کو ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ ٹرمپ محاصرہ مسلط کرکے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، اپنے خیال میں اس مذاکراتی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتا ہے یا پھر نئی جنگی کارروائیوں کا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہیں کرتے، اور گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ہم نے میدانِ جنگ میں اپنے نئے پتے ظاہر کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایسا ہی پیغام پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے دیا جنہوں نے لکھا کہ عالمگیر حقیقت ہے کہ کوئی بھی خود مختار ملک، جو عظیم تہذیب اور شناخت کا حامل ہو، دھمکی اور طاقت کے زور پر مذاکرات نہیں کرتا۔

اس معاملے کی تیسری جہت پاکستان کی کوششیں ہیں۔ پاکستانی قیادت مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔ گزشتہ روز نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر سے ملاقات کی۔ اُس سے قبل اُنہوں نے چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ سے ملاقات کی، جبکہ انہوں نے مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے اس مہینے میں 8ویں بار ٹیلفونک گفتگو کی۔ ایک روز قبل اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے حوالے سے تین ممالک کا دورہ کیا اور اُس کے بعد 19 اپریل کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پُزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے بھی بات چیت کی۔

مزید پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

مذاکرات میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

موجودہ صورتحال میں امریکی بات چیت کے لیے تیار نظر آتے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان آمد کا اِمکان بھی ہے لیکن ایرانی قیادت کا کہنا ہے امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اِن حالات میں بات چیت ممکن نہیں۔

دوسری بڑی رکاوٹ امریکا کا مطالبہ کہ ایران جوہری پروگرام سے مکمل دستبردار ہو جائے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اُس پر سے تجارتی پابندیاں ہٹا کر اس کے منجمند اثاثے بحال کیے جائیں۔

تیسری بڑی رکاوٹ آبنائے ہرمز ہے، امریکا نے مبینہ طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں پر نیول بلاکیڈ کیا، اور ایران کے تجارتی جہاز پر قبضہ کرلیا۔

دوسری طرف ایران بھی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت اس وقت 3 سے 10 رہ گئی ہے جو یومیہ 120 سے 140

17 اپریل کو چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی درخواست پر ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن امریکا جانب سے نیول بلاکیڈ کے بعد ایران نے سمندری راستہ دوبارہ بند کردیا۔تک ہوتی تھی۔

لبنان کی جنگ بندی ایک اور بڑی رکاوٹ ہے، جہاں اسرائیل حملے نہیں روک رہا جبکہ ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے لبنان میں جنگ بندی بھی ایک شرط ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: پاکستان پُرامید، تہران کا مثبت غور، جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب

پاکستان کی کاوشیں اور جامع معاہدے کی جانب پیشرفت

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو ایک جامع معاہدے پر دستخط کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان اس عمل میں ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جو نہ صرف خطے میں امن کے لیے سرگرم ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی یہی سفارتی حکمت عملی مستقبل میں کسی بڑے تصادم کو روکنے اور پائیدار امن کے قیام میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار