عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم گزشتہ روز نمایاں اضافے کے بعد مارکیٹ اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 15 سینٹ کمی کے بعد 101.76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 14 سینٹ کم ہو کر 92.82 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ ایک روز قبل دونوں بینچ مارکس میں 3 ڈالر سے زائد اضافہ دیکھا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایران-امریکا تنازع: گلگت بلتستان کے عوام پُر اعتماد کیوں ہیں؟
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات ہیں۔ یہ اہم گزرگاہ عالمی یومیہ تیل اور ایل این جی سپلائی کا قریباً 20 فیصد حصہ لے جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے بدھ کو آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو تحویل میں لے لیا، جبکہ امریکا نے اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھتے ہوئے کم از کم تین ایرانی ٹینکرز کو ایشیائی پانیوں میں روک کر ان کا رخ موڑ دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی پر جنگ بندی میں توسیع تو کر دی ہے، تاہم اس کی کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے۔
ادھر امریکی توانائی معلوماتی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں 1.9 ملین بیرل اضافہ ہوا، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا تنازع: روس نے ثالثی کی پیشکش کردی
رپورٹ کے مطابق امریکی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات بڑھ کر یومیہ 12.88 ملین بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جس کی بڑی وجہ ایران جنگ کے باعث ایشیا اور یورپ میں سپلائی میں خلل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر نہیں آتی اور ایران امریکا کشیدگی کم نہیں ہوتی، عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا۔













