کیا واقعی ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں پرانی کشیدگی ختم ہونے کے قریب ہے؟ اور کیا پاکستان اس تاریخی عمل میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے؟ حالیہ پیش رفت نے اس سوال کو ایک بار پھر عالمی سطح پر زندہ کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت متوقع ہے، اور فریقین کے درمیان طویل تعطل ختم ہونے کے قریب دکھائی دے رہا ہے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچا، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی۔ یہ وفد نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہا ہے بلکہ مذاکرات کے اگلے دور کی راہ بھی ہموار کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں جن میں گلگت اور اسکردو کے علاقے شامل ہیں وہاں ہونے والے احتجاج اور اس میں ہونے والے جانی نقصانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی تنازعات کس طرح مقامی سطح پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا ثالثی کردار نہ صرف عالمی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ داخلی طور پر بھی غلط فہمیوں کے ازالے اور حالات کو متوازن بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ایک اہم پہلو اندرونی غلط فہمیوں کا دور ہونا بھی ہے۔ جب ایران میں حملہ ہوا تو پاکستان میں مختلف علاقوں خاص طور پر شیعہ کمیونٹی کی جانب سے بیانات اور پرتشدد احتجاج دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی سطح پر کتنی شدید جذباتی وابستگی اور غلط فہمیاں موجود تھیں۔ ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مذاکراتی کردار نہ صرف سفارتی سطح پر اہم ہے بلکہ یہ ان غلط فہمیوں کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے، جن کی وجہ سے عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے۔ دوسری جانب شیعہ کمیونٹی اور گلگت بلتستان کے عوام بھی پاکستان کے اس کردار یعنی فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی حکمت عملی کو سراہ رہے ہیں اور اچھی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے ایک اہم باب کا مرکز بنا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب تقریباً نصف صدی سے کشیدہ تعلقات رکھنے والے دو ممالک ایک میز پر آمنے سامنے آئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی ملاقات لگ سکتی ہے، مگر اس کے پس منظر میں تاریخ کے بھاری بوجھ، سیاسی مفادات، اور عالمی طاقتوں کے پیچیدہ تعلقات کارفرما ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں کہا گیا کہ اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم بات چیت مثبت رہی۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو سننے میں سادہ لگتا ہے مگر اس کے اندر سفارتکاری کی باریکیاں پوشیدہ ہیں۔
اگر ہم اس صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ماضی کی طرف جانا ہوگا۔ ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ سے ایسے کشیدہ نہیں تھے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے دونوں ممالک قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے۔ مگر انقلاب نے نہ صرف ایران کے سیاسی نظام کو تبدیل کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت بھی بدل دی۔ اسی سال پیش آنے والا امریکی سفارتخانے کا یرغمال بحران دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی بنیاد بن گیا، جو 444 دن تک جاری رہا اور جس نے تعلقات کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں سے واپسی مشکل نظر آنے لگی۔
اس کے بعد آنے والے برسوں میں پابندیاں، پراکسی جنگیں، اور بیانات کی جنگ اس خلیج کو مزید گہرا کرتی رہیں۔ ایران عراق جنگ کے دوران امریکی پالیسیوں نے ایران کے خدشات میں اضافہ کیا، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ایران کا جوہری پروگرام ایک عالمی تنازع کی شکل اختیار کرگیا۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو آج بھی ایران اور امریکا کے تعلقات کی بنیاد میں موجود ہے۔
اسی پس منظر میں اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو دیکھا جائے تو یہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ایک ثالث کے طور پر دونوں ممالک کو قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے، جو نہ صرف سفارتی کامیابی ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اس کے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ ایران سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، جبکہ ایران نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اگر اس کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جائے تو پیش رفت ممکن ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مذاکرات کامیاب رہے یا ناکام؟ عام تاثر یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو تو مذاکرات ناکام ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سفارتکاری میں کامیابی ایک تدریجی عمل ہوتی ہے۔ 47 سالہ تنازع کو چند گھنٹوں میں حل کرنے کی توقع رکھنا حقیقت سے دور ہے۔ ایسے معاملات میں اعتماد سازی، مسلسل بات چیت، اور وقت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے تنازعات ایک ہی نشست میں حل نہیں ہوتے۔ کیوبا میزائل بحران جیسے سنگین معاملے کو بھی حل ہونے میں وقت لگا، اور دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے سے واپس آئی۔ اسی طرح امریکہ اور چین کے تعلقات بھی ایک طویل عمل کے بعد بہتر ہوئے۔ اس لیے اسلام آباد مذاکرات کو ایک بڑے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، جہاں ہر ملاقات ایک قدم آگے بڑھنے کے مترادف ہوتی ہے۔
دوسری جانب یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حالیہ کشیدگی کے اثرات عوامی سطح پر بھی محسوس کیے گئے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاج اور بدامنی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی تنازعات کس طرح عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کا عمل نہ صرف عالمی سطح پر اہم ہے بلکہ مقامی سطح پر بھی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہوگیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات کسی حتمی حل تک نہ پہنچے ہوں، مگر انہوں نے ایک دروازہ ضرور کھول دیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا قدم ہے، مگر بڑی تبدیلیاں ہمیشہ ایسے ہی آغاز لیتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایسے میں ہر مثبت پیش رفت اہمیت رکھتی ہے۔
سفارتکاری دراصل امید کا دوسرا نام ہے۔ جب تک بات چیت جاری ہے، امکانات زندہ رہتے ہیں، اور جب امکانات زندہ ہوں تو امن کی امید بھی باقی رہتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














