امریکی بینڈ ’دی اسٹروکس‘ کے گلوکار جولین کاسابلانکاس نے ایک یوٹیوب شو میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صیہونیوں پر تنقید کی ہے جس پر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
انہوں نے ایک یوٹیوب پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صیہونی سفید فام لوگوں جیسی مراعات حاصل کرتے ہیں اور سہولتیں رکھتے ہیں لیکن خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں اور ایسے بات کرتے ہیں جیسے وہ غلامی کے دور کے سیاہ فام لوگ ہوں۔ ان کے مطابق یہ بات انہیں حیران کرتی ہے کہ کچھ لوگ خود کو ’خوفزدہ‘ اور ’دباؤ کا شکار‘ کہتے ہیں۔
میزبان نے بھی ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اسی نوعیت کی رائے کا اظہار کیا۔ گفتگو کے دوران جب حماس اور 7 اکتوبر کے حملوں کا ذکر آیا تو کاسابلانکاس نے کہا کہ تاریخی تناظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مقامی امریکیوں کی بغاوتوں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم نے جو کیا وہ درست تھا۔ اسی طرح غلاموں کی پُرتشدد بغاوتوں کا مطلب یہ نہیں کہ غلامی غلط نہیں تھی۔
جب میزبان نے ایسے لوگوں کو ’میڈیا سے ناواقف‘ کہا تو گلوکار نے کہا کہ ذہن سازی ایک طاقتور چیز ہے اور لوگوں کو اس بات پر موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے کہ وہ کسی چیز پر یقین رکھتے ہیں، جب وہ چیز ان پر زبردستی مسلط کی گئی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا اوباما خاندان کے خلاف نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی سے انکار
ایک اور نکتے پر گفتگو کرتے ہوئے گلوکار نے کہا کہ موجودہ سیاسی تقسیم کو ختم کر کے عوام کو ’بڑے معاشی مفادات رکھنے والے طبقے‘ کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ’یہ معاملہ بائیں اور دائیں بازو کا نہیں بلکہ طاقتور اور عام لوگوں کے درمیان فرق کا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیر طبقے کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کیا جانا چاہیے اور نجی دولت اور ریاستی اختیار کے درمیان واضح حد بندی ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کاسابلانکاس یا ان کے بینڈ نے سیاسی امور پر اظہار خیال کیا ہو۔ حال ہی میں میوزک فیسٹیول کوچیلا کے دوران بینڈ نے اپنی پرفارمنس میں ایسے عالمی رہنماؤں کی تصاویر بھی دکھائیں جنہیں ان کے بقول مغربی حمایت یافتہ اقدامات کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔
اس پرفارمنس میں ایران اور غزہ سے متعلق مناظر اور پیغامات بھی شامل کیے گئے جس نے سوشل میڈیا پر مزید بحث کو جنم دیا۔














