امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے پاکستانی نژاد صُلح اسف کی مصنوعی ذہانت اسٹارٹ اپ کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کر دیا، جس کے تحت کمپنی کو رواں سال 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا آپشن بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیس ایکس نےعوامی پیشکش کا آغاز کر دیا
سان فرانسسکو میں قائم اے آئی کمپنی کرسر، جس کے شریک بانی صالح آصف ہیں، سافٹ ویئر کوڈ تیار کرنے والی جدید مصنوعی ذہانت پر کام کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کے مطابق دونوں کمپنیاں مل کر دنیا کا بہترین کوڈنگ اور علمی کام کرنے والا اے آئی سسٹم تیار کریں گی۔
کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کرسر کی سافٹ ویئر مہارت اور اسپیس ایکس کے جدید اے آئی سپر کمپیوٹر ’کولوسس‘ کو یکجا کر کے طاقتور ماڈلز تیار کیے جائیں گے، جو مستقبل کی ٹیکنالوجی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

یہ شراکت داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی کے میدان میں عالمی سطح پر سخت مقابلہ جاری ہے۔ کرسر کو مائیکروسافٹ کے پلیٹ فارم گیٹ ہب سے مقابلہ درپیش ہے، جبکہ دیگر کمپنیاں بھی تیزی سے اپنی اے آئی مصنوعات متعارف کرا رہی ہیں۔
کراچی میں پیدا ہونے والے صالح آصف نے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلیم حاصل کی اور بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اینی سفیئر کمپنی قائم کی، جس نے کرسر جیسے کامیاب اے آئی ٹولز تیار کیے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیس ایکس کے اے آئی کے سیٹلائٹس منصوبے کو کیا مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں؟
رپورٹس کے مطابق کمپنی کی سالانہ آمدن ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اسے تیزی سے ترقی کرنے والی اے آئی کمپنیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسپیس ایکس مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو خلائی ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت سیٹلائٹ بیسڈ ڈیٹا سینٹرز بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شراکت داری عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔













