انسانی شعور کو کوانٹم عمل سے سمجھا جا سکتا ہے، آکسفورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسانی شعور ہمیشہ سے سائنسی دنیا کے لیے ایک معمہ رہا ہے، جس پر مختلف نظریات اور بحثیں جاری ہیں کہ دماغ کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کیسے سمجھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی طالبات کیسے آکسفورڈ یونیورسٹی کی فلی فنڈڈ اسکالرشپ حاصل کرسکتی ہیں؟

اس حوالے سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ طبیعیات ولاتکو ویدرال نے ایک حیران کن نظریہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے انسانی شعور کو کوانٹم عمل سے تشبیہ دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انسانی ذہن صرف حیاتیاتی یا منطقی عمل نہیں بلکہ دماغ میں ہونے والے کوانٹم نوعیت کے واقعات کا مجموعہ ہے۔ ان کے مطابق انسانی سوچ دوہری کیفیت رکھتی ہے، جس میں کبھی انسان ایک ساتھ کئی امکانات پر غور کرتا ہے اور پھر ایک حتمی سوچ پر پہنچتا ہے۔

ویدرال کے مطابق تخلیقی سوچ اسی کوانٹم اثرات اور ذہنی الجھنوں کے امتزاج سے جنم لیتی ہے، جبکہ موجودہ مصنوعی ذہانت محدود ہے کیونکہ وہ صرف طے شدہ اور منطقی مراحل پر کام کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: آکسفورڈ یونیورسٹی مباحثہ پاکستانی طلبا نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا

انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ مستقبل میں کوانٹم دماغی ٹیکنالوجی انسانی شعور کو مزید وسعت دے سکتی ہے، جس سے تخلیقی صلاحیتوں اور حقیقت کے ادراک میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp