پاک بحریہ کی ہنگور کلاس آبدوزیں، سمندری دفاع میں بڑی پیشرفت

ہفتہ 25 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک بحریہ کی ہنگور کلاس آبدوزیں زیرِ سمندر دفاعی صلاحیت اور سمندری حملہ کرنے کی استعداد کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے تیار ہیں، جس سے پاکستان کی بحری قوت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان نیوی کی ہنگور کلاس آبدوزیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی جو سمندری حدود میں دشمن کی نقل و حرکت کو محدود کرنے اور سمندری دفاع کو مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نیوی نے 14 ویں مرتبہ سی ٹی ایف-150 کی کمان سنبھال لی

یہ آبدوزیں زیرِ سمندر حملوں اور دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کریں گی، جبکہ ان کی بدولت پاکستان کی سمندری نگرانی اور آپریشنل رسائی میں بھی اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت خطے میں بحری توازن کو متاثر کرنے اور پاکستان کی ڈیٹرنس صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

ہنگور کلاس آبدوزیں جدید جنگی صلاحیتوں کے باعث سمندری خطرات کے مقابلے میں بہتر دفاع اور مؤثر ردعمل کی صلاحیت فراہم کریں گی، جس سے بحری سلامتی کے نظام کو مزید تقویت ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں جاری، الیکشن کمیشن کی پیشرفت رپورٹ جاری

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘