بنگلہ دیش کا صنعتی شعبہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جہاں ایندھن کی قلت، گیس کی فراہمی میں تعطل اور بار بار بجلی کی بندش کے باعث ملک کے اہم صنعتی مراکز میں پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بنگلہ دیشی اخبار ’سماکال‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران گارمنٹس، اسٹیل، سیمنٹ، ادویات، منجمد سمندری خوراک اور صارف اشیا تیار کرنے والی فیکٹریوں کی اوسط پیداوار میں تقریباً 24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اسی عرصے میں پیداواری لاگت میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چٹاگانگ، ساور، غازی پور، نارائن گنج، کومیلا، کھلنا اور منشی گنج جیسے بڑے صنعتی مراکز اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
بھاری صنعتوں کو شدید دھچکا
ملک کے اہم صنعتی مرکز چٹاگانگ میں ایندھن کی کمی کے باعث اسٹیل ری رولنگ ملز، شپ بریکنگ یارڈز اور سیمنٹ فیکٹریوں کی پیداوار میں تقریباً ایک چوتھائی کمی واقع ہوئی ہے۔
کئی بڑی کمپنیوں نے پیداوار میں نمایاں کمی کی اطلاع دی ہے، جن میں ابوالخیر اسٹیل کی یومیہ پیداوار 4 ہزار ٹن سے کم ہو کر 3 ہزار 500 ٹن رہ گئی، جی پی ایچ اسپات کی پیداوار 3 ہزار ٹن سے گھٹ کر 1 ہزار 800 ٹن ہو گئی، جبکہ کانفیڈنس سیمنٹ کی یومیہ پیداوار 4 ہزار ٹن سے کم ہو کر 3 ہزار ٹن رہ گئی ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق بار بار بجلی کی بندش سے بھاری مشینری متاثر ہو رہی ہے اور کارکردگی میں کمی آ رہی ہے۔
گارمنٹس سیکٹر بھی دباؤ میں
بنگلہ دیش کی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے گارمنٹس سیکٹر پر بھی اس بحران کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ساور اور اشولیا کے صنعتی علاقوں میں کئی فیکٹریوں کی یومیہ پیداوار ایک لاکھ ملبوسات سے کم ہو کر 80 سے 90 ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔
کاروباری افراد کے مطابق ڈیزل کی کمی کے باعث چٹاگانگ بندرگاہ تک سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس کے باعث کچھ برآمد کنندگان کو مہنگی فضائی ترسیل کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
لاگت میں اضافہ، مشکلات میں اضافہ
صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل سے چلنے والے جنریٹرز کے استعمال نے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی 20 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیل سازوں کے مطابق فی ٹن لاگت میں 500 سے 700 ٹکا تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ سیمنٹ کی فی بوری لاگت میں 20 سے 25 ٹکا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ درآمدی خام مال جیسے اسٹیل اسکریپ، کپاس، پولی ایسٹر اور ادویات میں استعمال ہونے والے اجزا کی عالمی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق توانائی بحران کے باعث برآمدات بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ مارچ میں بنگلہ دیش نے تقریباً 2.81 ارب ڈالر مالیت کے ملبوسات برآمد کیے، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد کم ہیں۔
مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران مجموعی برآمدات میں 5.51 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
توانائی کے وزیر مملکت انندیہ اسلام امیت نے کہا ہے کہ حکومت نے بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ گارمنٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اراکین کو ترجیحی بنیادوں پر ایندھن کارڈ جاری کیے جائیں تاکہ وہ آسانی سے ڈیزل حاصل کر سکیں۔
انہوں نے صنعتوں کو شمسی توانائی کے نظام میں سرمایہ کاری کی بھی ترغیب دی تاکہ روایتی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
کاروباری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کا بحران برقرار رہا تو اس سے معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، برآمدات میں کمی اور روزگار کے مواقع میں کمی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔












