مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمینِ حج کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جہاں مدینہ منورہ سے آنے والا پہلا قافلہ 651 حجاج کرام پر مشتمل تھا، جن کا استقبال نہایت منظم اور خوش اسلوبی سے کیا گیا۔
استقبالیہ انتظامات کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ پاکستان حج مشن کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر عازمین کو رہنمائی اور سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے گئے۔
حکام کے مطابق مدینہ منورہ میں قیام کے دوران عازمین سے سہولیات سے متعلق فیڈبیک لیا گیا، جس میں انہوں نے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا۔ ڈی جی حج کے مطابق مدینہ میں عازمین کو مرکزیہ کے علاقے میں رہائش دی گئی، جس سے مسجد نبوی ﷺ تک رسائی آسان رہی۔
انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں بھی عازمین کے لیے اسی معیار کے انتظامات کیے جائیں گے، جبکہ گزشتہ حج آپریشن کے تجربات کی روشنی میں اس سال مزید بہتری لائی گئی ہے۔ آمد و رفت، رہائش اور مشاعر مقدسہ تک منتقلی کے نظام کو پہلے سے زیادہ مربوط اور مؤثر بنایا گیا ہے۔
منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں سہولیات کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ خیموں کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جہاں ایئرکنڈیشنڈ خیمے، آرام دہ بستر اور بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ عازمین کو پہلے سے خیموں اور رہائش کی تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ منتقلی کے دوران کسی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
مزید برآں، مکہ مکرمہ میں رہائش کے لیے نئے سیکٹرز شامل کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال کی معیاری عمارتوں کو بھی برقرار رکھا گیا ہے، جس سے سہولیات میں اضافہ ہوا ہے۔ نُسک کارڈ کی تقسیم اور ڈیٹا مینجمنٹ کے نظام کو بھی جدید بنایا گیا ہے تاکہ عازمین کی رجسٹریشن اور دیگر امور تیزی سے مکمل ہو سکیں۔
ڈی جی حج نے امید ظاہر کی کہ پاکستان حج مشن اس سال بھی اپنی بہترین کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی معیار کے حوالے سے نمایاں کامیابی حاصل کرے گا۔














