ٹرمپ کا بلف

پیر 27 اپریل 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وار آن ٹیرر والے دور میں پاکستانی حکمران وقتاً فوقتاً ایک جملہ دہرایا کرتے

“یہ جنگ ہماری جنگ ہے”

یہ مشرف ہی نہیں، ان کے ماتحت وزرائے اعظم کا بھی موقف تھا اور یہی پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم کا بھی موقف تھا۔ پیپلزپارٹی دور حکومت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اسے اپنی جنگ ماننے سے انکاری رہے تھے، مگر اقتدار میں آکر انہوں نے بھی اسے اپنا لیا۔ اس جملے کی ایک بہت ہی خاص بات یہ تھی کہ یہ جتنا سمپل نظر آتا ہے، اتنا تھا نہیں، بلکہ یہ ایک ذو معنی جملہ تھا۔

جب ہم کہتے تھے کہ یہ ہماری جنگ ہے تو اس کے پیچھے یہ مطلب چھپا ہوتا کہ افغانستان نہیں ہم ٹارگٹ ہیں۔ اگر امریکہ یورپ اور کوریا و جاپان کی طرح یہاں مستقل ٹک گیا تو یہ سب سے زیادہ ہمارے لئے ہی خطرہ ہوگا۔ یہ بات نہایت دور اندیش عسکری دانشور جنرل حمید گل یوں کہا کرتے تھے

“نائن الیون بہانہ ہے، افغانستان ٹھکانہ ہے، اور پاکستان نشانہ ہے”

یوں اس جنگ کو ہماری جنگ کہنے کی اصل معنویت یہی تھی۔ لیکن جملے کی ساخت ایسی تھی کہ 6 سال تک امریکی اسی خوش فہمی کا شکار رہے کہ ہم گویا ان کی جنگ کو ہی اون کر رہے ہیں۔ جب انہیں کھیل سمجھ آیا تو پھر شروع ہوا پاکستان پر الزامات کا سلسلہ۔ وہ الزامات جو امریکی حکام بیان بازی کی صورت لگاتے۔ اور پھر ایک کے بعد دوسری ڈاکومنٹریز تیار کر کرکے یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جاتی کہ پاکستان انہیں ڈبل کراس کر رہا ہے۔ ایسی ہر کوشش دفتر خارجہ کی ایک سٹیٹمنٹ کی مار ثابت ہوتی۔ اور بالآخر اس جنگ کا اختتام یوں ہوا کہ افغانستان میں 7 مستقل بیسز کی شرط پر انخلاء کی بات کرنے والے امریکہ کو کوئی بیس بھی حاصل کئے بغیر انخلاء کرنا پڑا۔ یعنی ہم اپنی جنگ جیت گئے۔

دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ جیسی بے لگام طاقت کو اپنے ملک یا پڑوس میں ٹکنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ خود امریکہ کے ہی کرنل مکریگر سے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران سوال ہوا

“جب کسی ملک میں امریکی اڈہ قائم ہوتا ہے تو اس ملک کے لئے اس کی کیا اہمیت ہوتی ہے ؟”

کرنل نے دو ٹوک جواب دیا

“اگر آپ کے ملک میں امریکی اڈہ قائم ہوجائے تو امریکہ کے لئے اس کے بہت سے مطالب ہوتے ہیں ، لیکن آپ کے لئے اس کا صرف ایک ہی مطلب ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ آپ کی آزادی اور خود مختاری ختم ہوگئی۔ یہ اڈہ نہیں بلکہ وہ گن ہوتی ہے جو اس ملک کی کنپٹی پر مستقل رکھ دی جاتی ہے”

ہماری جنگ کی یہ اصطلاح ہمیں یوں یاد آئی کہ ایک بار پھر ہمیں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ “ہماری جنگ” کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ اگر خدانخواستہ ایران کو شکست ہوجاتی تو ہمارے پڑوس میں امریکہ کے ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے اڈے بھی قائم ہوجاتے۔ اس کے بعد کیا ہوتا ؟ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے حالیہ عرصے میں اپنی توپوں کا رخ ترکی کی طرف موڑ رکھا ہے، اور باور کرا رہا ہے کہ اگلا ٹارگٹ پاکستان نہیں ترکی ہوگا۔ ایسی صورتحال میں ہماری جانب سے نیتن یاہو سے وہی کہا جاسکتا ہے جو کسی انڈین فلم میں سنجے دت نے ولن سے کہا تھا

“تیرے کو کیا لگتا ہے، اپن علی باغ سے آیا ہے ؟”

ہر جنگ کا اپنا ایک الگ ماحول ہی نہیں بلکہ تقاضے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ سو یہ ایران کی جنگ کا ہی ہم سے تقاضا تھا کہ اسے رکوانے کی کوشش کریں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب کو ہی پتہ ہے کہ وہ بری طرح متزلزل ہیں۔ جو ہتھیار وہ ایران کے خلاف چالیس دن تک استعمال کرتے رہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا بس ایک ہفتے کا ہی ذخیرہ بچا ہے۔ لیکن نیتن یاہو چاہتا ہے کہ وہ بھی اس امید پر پھونک دیا جائے کہ کیا پتہ کوئی کرشمہ ہوجائے۔ نیتن یاہو کا یہ اصرار نہایت احمقانہ یوں ہے کہ میزائیلوں کے محض ایک ہفتے کے ذخیرے کی بنیاد پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کا رسک دنیا کا کوئی بھی ملٹری کمانڈر نہیں لے گا۔

کیونکہ ہفتہ پلک جھپکتے گزر جائے گا اور اس کے بعد سمندر میں کھڑی امریکی نیوی کے جہاز انگریزی اصطلاح کے مطابق سٹنگ ڈکس ہوں گے۔ ایسی صورت میں فل سپیڈ فرار ہی واحد آپشن ہوگی ورنہ نوبت سرنڈر کی بھی آسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر نیتن یاہو یہ احمقانہ اصرار کیوں کر رہا ہے ؟ اس کے اصرار کی وجہ یہ ہے کہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ جنگ اسرائیل کے لئے پہلا ہی نہیں بلکہ آخری موقع بھی ہے۔ ایران بچ گیا تو یہ کئی گنا مزید طاقت اختیار کرجائے گا، اور کسی امریکی صدر نے اگلے سو سال بھی اس کی طرف رخ نہیں کرنا۔

یوں پاکستان کے لئے ڈپلومیسی اس لحاظ سے آسان بھی ہے کہ وہ جانتا ہے امریکہ اب ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ٹرمپ کی اوٹ پٹانگ ٹویٹس اور ناکہ بندی جیسے شوشے درحقیقت مزید جنگ سے ہی گریز کے بہانے ہیں۔ لہذا ٹرمپ کے پاس ڈپلومیسی سے فرار کی آپشن ہے ہی نہیں۔ لیکن یہی پلومیسی پاکستان کے لئے اس لحاظ سے نازک بھی ہے کہ اسرائیل کوئی بھی واردات کر سکتا ہے۔

خود ایرانیوں کو بھی بخوبی اندازہ ہے کہ ٹرمپ صرف بلف کر رہے ہیں۔ ایرانیوں کا خیال ہے کہ بحری ناکہ بندی محض اس لئے کی گئی ہے کہ جوں ہی معاہدہ سائن ہو تو ٹرمپ ٹویٹ کرکے کہہ سکے کہ چونکہ ایرانی جھک گئے لہذا میں بحری ناکہ بندی ختم کر کے فاتح کی حیثیت سے واپس آرہا ہوں۔ اور ایرانی یہ موقع کسی صورت ٹرمپ کو دینے کے موڈ میں نہیں۔ جس کی تین وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ٹرمپ کا دورہ چین بالکل سر پر ہے، جو ان کے لئے پہلے ہی یوں ایک بڑا دباؤ بنا چکا کہ ان کا فاتحِ ایران کی حیثیت سے بیجنگ جانے کا خواب چکناچور ہوچکا۔

دوسری وجہ یہ کہ امریکہ میں مڈٹرم الیکشن کی مہم تیزی اختیار کرنے والی ہے، جہاں ٹرمپ کے سر پر پہلے ہی یہ تلوار لٹکی ہوئی ہے کہ اگر وہ کانگریس میں اکثریت کھو گئے تو ان کا عبرتناک مواخذہ نوشتہ دیوار ہے۔ اور مواخذہ بھی کئی حوالوں سے۔ تیسرا یہ کہ امریکہ میں فٹبال ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے۔ اگر اس سے قبل ٹرمپ نے کوئی تصفیہ نہ کیا تو ہر فٹبال میچ ایک ایسے بڑے احتجاجی ایونٹ میں بدل جائے گا جس کا نظارہ دنیا بھر کے فٹبال شائقین کریں گے۔ شاید اسی لئے پاکستان نے بھی اب بھاگ دوڑ والی سفارتکاری ترک کرکے وقت گزارنے والی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔

اسی دوران جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس اعلان کے ساتھ اسلام آباد پہنچے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لئے نہیں، بلکہ پاکستان کے روایتی کے دورے پر جا رہے ہیں۔ جہاں پاکستانی حکام کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوگی۔ اگر وہ واقعی ایسا کرجاتے ہیں اور امریکیوں سے نہیں ملتے تو یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انا کے لئے 11000 والٹ والا جھٹکا ہوگا۔ آپ اسے انگریزی محاورے کے مطابق ایران کی جانب سے ٹرمپ کا بلف کال کرنا بھی کہہ سکتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کو یورپی طرز پر عوام دوست ادارہ بنائیں گے، مریم نواز، راشن کارڈ کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ

’سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی ٹیکس رہ گیا ہے‘ سینیٹ کمیٹی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر بحث

بجلی کی بچت: میٹا کا اپنے ڈیٹا سینٹرز شمسی توانائی سے چلانے کا منصوبہ

پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سفارتی رابطہ، امن و استحکام پر تبادلۂ خیال

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ