اقتصادی رابطہ کمیٹی یعنی ای سی سی نے جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ای سی سی کے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے جن کا مقصد معیشت میں استحکام، عوامی ریلیف اور مختلف شعبوں کی بہتری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں کے استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سونے کی تجارت پر پابندی ختم کردی
اعلامیے کے مطابق اشیائے ضروریہ خصوصاً ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن اور چینی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے، جسے حکومتی اقدامات کا مثبت نتیجہ قرار دیا گیا۔
جبکہ کمیٹی نے جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
اجلاس میں گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مرمت کے بعد دوبارہ برآمد کے پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ریکوڈک منصوبے کے معاہدوں کی منظوری دیدی
جبکہ گوادر کے ڈونکی سلاٹر ہاؤس سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق تجاویز بھی منظور کی گئیں۔
اجلاس میں کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
اسی طرح پاکستان نیشنل ہاکی ٹیم کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر 3 کروڑ روپے کے انعامات دینے کی منظوری بھی دی گئی۔
مزید برآں، قومی احتساب بیورو میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور مصنوعی ذہانت سسٹم کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: اسٹیل ملز، کے الیکٹرک، گندم خریداری کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اہم فیصلے
پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے لیے تقریباً 6 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن ادا کی جا سکیں۔
بلوچستان میں تعینات افسران کے لیے خصوصی مراعاتی پیکج کے تحت 31 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے وفاقی اور صوبائی سطح پر قیمتوں کی سخت نگرانی جاری رکھنے اور سپلائی چین کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔














