وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ کے دوران مجموعی ترسیلات 3.8 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جبکہ معمول کے مطابق ماہانہ ترسیلات کا حجم 3.2 ارب امریکی ڈالر ہے۔ ان کے مطابق رمضان اور عید کے باعث ترسیلات میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: علاقائی غیر یقینی کے باوجود پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی، مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں 260 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اپریل میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ 180 سے 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی منظوری لازم نہیں ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال میں معاشی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی مقررہ ہدف سے کم رہے گی۔ یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نجکاری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے اور پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کی گئی ہے۔ لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹس کی نجکاری کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے، منظوری مئی میں متوقع، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
انہوں نے مزید کہا کہ بڑے کاروباری گروپس کنسورشیم کی شکل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو کی گئی ہے جبکہ پنشن نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ آئندہ سال سے مسلح افواج کا کنٹری بیوٹری پنشن نظام شروع ہوگا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں اور اس شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے۔ کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹوکنائزیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔














