بلوچستان کی حکومت کو غیر نمائندہ کہنا سیاسی نعرہ، حقیقت اس کے برعکس

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے بارے میں ایک عام بیانیہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں کی حکومت غیر نمائندہ ہے، تاہم جب اس دعوے کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، انتخابی نتائج، سیاسی عمل اور زمینی ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال اس سے مختلف اور زیادہ حقیقت پسندانہ نظر آتی ہے۔

2024 کے انتخابات: عوامی مینڈیٹ کی عکاسی

2024 کے انتخابات نے یہ واضح کیاکہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی عوام کے ووٹوں سے تشکیل پائی، نہ کہ کسی بند کمرے کے فیصلوں سے۔

مختلف سیاسی جماعتوں، آزاد امیدواروں اور علاقائی نمائندوں کی بھرپور شرکت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انتخابی عمل سب کے لیے کھلا رہا۔ اس تناظر میں یہ نکتہ اہم ہے کہ جمہوریت میں اصل طاقت بیلٹ بکس سے حاصل ہوتی ہے۔

جمہوری توازن اور سیاسی تنوع

کسی بھی جمہوری نظام کی طرح بلوچستان میں بھی تسلسل اور تبدیلی ساتھ ساتھ نظر آتی ہے، جہاں نئے چہرے بھی اسمبلی کا حصہ بنے اور تجربہ کار سیاستدان بھی منتخب ہوئے۔

یہی امتزاج سیاسی نظام کے ارتقائی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں مختلف سیاسی و فکری رجحانات کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ نمائندگی یک رخی نہیں بلکہ متنوع ہے۔

احتجاجی سیاست سے ایوان تک سفر

بلوچستان کی سیاست میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ بعض رہنما جو پہلے احتجاجی سیاست سے وابستہ تھے، اب اسمبلی کا حصہ ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمان کا ایوان میں موجود ہونا اور اختر مینگل جیسے قوم پرست رہنماؤں کی اسمبلی میں نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی اختلافات کو جمہوری نظام کے اندر جگہ دی جا رہی ہے۔

سیاسی تنوع اور ادارہ جاتی شمولیت

صوبائی اسمبلی میں قوم پرست، مذہبی اور مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف نظریات کو نمائندگی حاصل ہے۔ اگر حقیقی نمائندگی کا فقدان ہوتا تو اسمبلی یک رنگ ہوتی، جبکہ موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔

خاندانی سیاست اور انتخابی حقیقت

اگرچہ خاندانی سیاست کا عنصر موجود ہے، تاہم فیصلہ کن حیثیت ووٹر کے پاس ہے۔ ووٹ کے ذریعے ہی عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، اور یہی جمہوری عمل کی بنیادی روح ہے۔

ترقیاتی عمل اور زمینی حقائق

بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبے، سی پیک سے منسلک اقدامات، انفراسٹرکچر کی بہتری اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبے میں انتظامی اور حکومتی ڈھانچہ فعال ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق کام کر رہا ہے۔

زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جمہوری عمل موجود، فعال اور ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ غیر نمائندہ حکومت کا بیانیہ زیادہ تر سیاسی تاثر پر مبنی نظر آتا ہے، جبکہ عملی صورتحال ایک متحرک سیاسی و جمہوری نظام کی عکاس ہے جو مختلف آوازوں کو جگہ فراہم کر رہا ہے اور ترقی کے عمل کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp