چندی گڑھ میں لاہوری

بدھ 29 اپریل 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انیس سو سینتالیس میں لاہور میں اپنا گھر بار چھوڑ کر انڈیا کے مختلف شہروں میں آباد ہونے والے حضرات کی لاہور سے محبت کا جذبہ سلامت رہا جس کے اظہار کی بہترین صورت کسی لاہوریے سے ملنے کے وقت سامنے آتی رہی ہے۔

فکشن اور نان فکشن میں ان محبتوں کا بہت سا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس سے خوشہ چینی کرتے ہوئے میں نے بھی بہت سے مضمون لکھے ہیں۔

 سردست اس سلسلے کو دراز کرنے  کی سبیل معروف مصنف اور دانشور قاضی جاوید کی کتاب ’تاریخ و تہذیب‘ پڑھنے سے پیدا ہوئی ہے۔

اس کتاب میں شامل ’بھارت یاترا‘ نے مجھے پکڑ لیا جس کی بنیادی وجہ چندی گڑھ میں پرانے لاہوریوں سے ان کی ملاقات کی حکایات تھیں جس میں جذبے کی شدت کا رنگ لاہور کو یاد کرنے والے دوسرے خطوں کے مکینوں سے مختلف تھا۔

فسادات کے دوران اس شہر کو مجبوراً چھوڑنے کے باوجود ان کے لہجے میں تلخی نہیں تھی۔ وہ بڑی شیفتگی سے لاہور کو یاد کر رہے تھے۔ اس شہر کے باسی کو دیکھ کر ان کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ اس کے سامنے بچھے جارہے تھے۔

مئی 2004 میں چندی گڑھ میں ایک دن قاضی جاوید ہوٹل کی لابی میں بیٹھے تھے جہاں ایک شادی کی وجہ سے خاصی گہما گہمی تھی۔

ایک بزرگ خاتون ان کے برابر صوفے پر بیٹھ گئیں اور قاضی جاوید سے پوچھا کہ آیا وہ شادی میں شرکت کے لیے دلّی سے آئے ہیں؟ قاضی صاحب نے سوال کا جواب نفی میں دیا اور بتایا کہ وہ ایک ادبی کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور سے آئے ہیں۔

لاہور کا نام سن کر اس خاتون کی عجب حالت ہو گئی۔

’کیا کیا۔ لہور سے! آپ لہور  سے آئے ہیں؟‘

’جی ہاں، لاہور سے ہی آیا ہوں۔‘

قاضی جاوید کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کے لاہور سے ہونے کی بات پر اس خاتون کا اس قدر والہانہ ردِ عمل سامنے آئے گا جسے وہ ایک قسم کی دیوانگی قرار دیتے ہیں۔

قاضی جاوید کے بقول ’وہ چیخ چیخ کر اپنے عزیزوں کو بلانے لگی ۔ دیکھو ، دیکھو ،یہ بھائی صاحب لہور سے آئے ہیں۔ ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ لوگ مجھ کو یوں دیکھنے لگے کہ جیسے کوئی کوہ قاف پر رہنے والا ان کے درمیان اتر آیا ہو۔ لہور سے۔ اچھا تو آپ لہور سے آئے ہیں۔ خوب، واہ واہ۔‘

کہانی آگے بڑھتی ہے۔

بزرگ خاتون دلہن کو جو ان کی پوتی ہے، قاضی صاحب کے پاس سلام کرانے لاتی ہے۔ وہ اس کے سر پر  دستِ شفقت رکھ کر  اسے خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے دعا دیتے ہیں۔

خاتون اس موقعے پر پوتی سے کہتی ہیں’یہ بھائی صاحب میرے خاص مہمان ہیں۔ میرے شہر سے آئے ہیں۔ ان کا آج آنا تمھاری خوش قسمتی کی علامت ہے۔‘

قاضی صاحب خاص مہمان ٹھہرے تو اب ان کی وضع داری کا تقاضا تھا کہ وہ دلہن کو کچھ دان کریں ۔ یہ صورت حال اچانک پیدا ہوئی تھی تو انہیں یہی سوجھا کہ جیب میں موجود دس ڈالر کا نوٹ دلہن کی نذر کر دیں۔

 یہ مرحلہ طے ہونے کے بعد خاتون نے اپنی بپتا سنائی۔

ان دنوں کا قصّہ چھیڑا جسے احمد مشتاق نے اپنے مصرعے میں یوں بیان کیا ہے:

وہی تو دن تھے مرے کھیلنے کے کھانے کے

خاتون کا نام سنتوش تھا ۔ ان کا خاندان 47  سے پہلے لاہور میں راوی روڈ پر رہتا تھا۔  کھاتا پیتا گھرانہ تھا۔اپنی سکھیوں کا تذکرہ کیا جن کے ساتھ گھنٹوں کھیلنا ہوتا تھا۔

بتایا کہ اس زمانے میں کہاں تمیز تھی کہ کس کا کیا عقیدہ ہے۔ بچپن  کے سنہرے دنوں میں  بٹوارہ ہو گیا اور ان کا خاندان لاہور سے دلّی آگیا۔ اس کے بعد کتنے ہی زمانے گزرے لاہور کی یاد دل میں گونجتی رہی۔

سنتوش  کے بقول’میں سچ کہتی ہوں کہ ان سارے لمبے زمانوں میں ایک رات بھی ایسی نہیں آئی کہ میری آنکھ لگی ہو اور میں نے لہور کا، اپنی سہیلیوں کا، اپنی گلی کا سپنا نہ دیکھا ہو۔‘

قاضی صاحب کو اس خاتون سے مل کر اندازہ ہوا کہ زمین کی پکڑ کس قدر سخت ہوتی ہے۔

اس بات پر ان کا یقین چندی گڑھ میں ریستوراں کے مالک سردار اتیک سنگھ سے مل کر اور بھی پختہ ہوا۔ گوالمنڈی لاہور کے اس مکین کے لاہور سے آئے مہمانوں کو دیکھ کر خوشی سے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

ان کے والد ٹانگہ بان تھے اور وہ لاہور کی سڑکوں پر ٹانگہ چلانے کا ہنر سیکھ رہے تھے کہ فسادات میں ان کے والد مارے گئے۔

قاضی جاوید نے دراز دستی کی یہ کہانی سن کر ان  سے کہا:

’لاہوریوں نے تمھارے باپ کو قتل کر دیا اور تم ان کے لیے مرے جا رہے ہو۔‘

’نہیں مہاراج کسی ایک کا قصور نہیں۔ اس زمانے میں ہم سب ہی پاگل ہو گئے تھے۔ ایک دوسرے کو کاٹنے لگے تھے۔‘

 سنتوش اور اتیک سنگھ  لاہور میں رہے تھے۔ وہ ان کے خواب و خیال میں بستا تھا۔ اس لیے وہاں کے مکین کو دیکھ کر ان کا جوش و خروش سمجھ میں آتا ہے لیکن تیسری کہانی میں قاضی صاحب پر صدقے واری جانے والے صاحب تو کبھی لاہور نہیں رہے تھے ۔

اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن قاضی صاحب نے پبلک کال سینٹر سے لاہور  میں اپنے گھر فون کیا تو اس کا بل 28 روپے بنا جسے  انہوں نے ادا کرنا چاہا تو سردار جی نے کہا:

’بھائی جی، ہمارے منہ پر تھپڑ تو نہ ماریے  !‘

’تھپڑ آپ کے منہ پر، کیوں بھائی کیوں، آخر کیوں؟‘

’آپ پیسے جو دے رہے ہیں ۔ آپ لہورسے آئے ہیں نا تو بس ہمارے مہمان ہوئے۔ پیسے کس بات کے؟‘

سردار جی نے اسی پر بس نہیں کی اور قاضی جاوید کے لیے مٹھائی اور چائے منگوائی اور فون کے پیسے نہ لینے کا دوٹوک فیصلہ سنایا۔

چندی گڑھ میں قاضی جاوید کی آخری شام ٹیگور تھیٹر میں گزری جہاں پر مشرقی پنجاب کے فنکاروں نے موسیقی و رقص کا پروگرام ترتیب دیا تھا۔

ڈولی گلیریا کے گیت سے پہلے ان کے تعارف سے قاضی جاوید کے علم میں جب یہ بات آئی کہ ان کی والدہ سریندر کور بھی مہمانوں کی صف میں موجود ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ ان کی مدھر آواز  کے ساتھ ان کی والدہ مرحومہ کی یاد جڑی  تھی جو ریڈیو پر سریندر کور کے پنجابی گانے بہت شوق سے سنتی تھیں اور ان کا گانا ’شوقن میلے دی‘ تو  اکثر گنگنایا کرتی تھیں۔

قاضی جاوید لکھتے ہیں:

’اس اطلاع نے میری یادوں کی دنیا میں ہلچل مچا دی اور میری آنکھوں کے سامنے چالیس سال پہلے کے اپنے گھر کے منظر گھومنے لگے جب ریڈیو کے وسیلے سے سریندر کور کی سریلی آواز پورے پنجاب میں رس گھولتی تھی۔ سریندر کور کی موجودگی نے ٹیگور تھیٹر کے نیم تاریک ہال میں مجھ کو گویا ایک بار پھر اپنی ماں کی گود میں پہنچا دیا۔ میں اپنی سیٹ سے اٹھا اور اس خاتون کی طرف بڑھا۔ ان کو سلام کیا۔ سریندر کور نے مجھ کو گلے لگا لیا۔ میں نے ان سے اپنی ماں کا ذکر بھی کیا۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی: تجارتی نقل و حمل میں رکاوٹوں سے غریب ممالک زیادہ متاثر، اقوام متحدہ

تھراپی کے ساتھ ساتھ ورزش اور اچھے دوستوں کی صحبت ذہنی سکون کے لیے ناگزیر ہے، زارا نور عباس

آن لائن ملازمت کے متلاشی ہوشیار: جعلی کلاؤڈ فلیئر کے ذریعے  بڑا فراڈ بے نقاب

اسلام آباد کے پیٹرول پمپس پر شہریوں کا جم غفیر، انتظامیہ کی اہم ہدایت

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

ویڈیو

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

کیا امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہوگا؟ جانیے ارکانِ پارلیمنٹ کی رائے

ماں کی دعا، بیٹا کرکٹ کمنٹیٹر بن گیا

کالم / تجزیہ

امریکی دبدبہ

جعفر پناہی کی آف سائیڈ کھلاڑی

جدید ہنگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ، پاک بحریہ کا ایک سنگ میل