وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے لیے اہم کردار ادا کیا اور جنگ کے خدشات کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کر سکتا ہے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایران اور امریکا 47 سال بعد مذاکرات کی میز پر بیٹھے، جو پاکستان کے لیے بڑی کامیابی ہے۔

مزید پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

سردار محمد یوسف نے کہاکہ وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ خطے میں مکمل امن قائم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی خاص کرم نوازی سے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن ہو رہا ہے۔

پاکستان سعودی عرب تعلقات اور دفاعی معاہدہ

وفاقی وزیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو برادرانہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف مذہبی نہیں، بلکہ سیاسی، دفاعی اور سفارتی سطح پر بھی انتہائی مضبوط ہیں۔

انہوں نے کہاکہ زلزلہ ہو یا سیلاب، سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے مشکل وقت میں بھرپور مدد کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہیں گے، اور یہ معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کر سکتا ہے۔

داخلی سیاسی صورتحال پر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت

ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہاکہ پاکستان میں جمہوری نظام موجود ہے اور قومی اسمبلی و سینیٹ ہی اصل فورم ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے کئی بار اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور حکومت کبھی بات چیت سے پیچھے نہیں ہٹی۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے تاہم انتشار، توڑ پھوڑ اور افراتفری ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ’بال اپوزیشن کے کورٹ میں ہے‘، حزب اختلاف کو تعمیری اور مثبت سوچ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ مسائل حل ہو سکیں۔

پاکستان کے لیے حج کوٹہ

وزیر مذہبی امور نے کہاکہ پاکستان سے رواں سال حج کے لیے ایک لاکھ 89 ہزار 210 عازمین سعودی عرب جائیں گے، جبکہ اب تک قریباً 25 ہزار پاکستانی عازمین مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حج فلائٹ آپریشن 18 اپریل سے شروع ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ 21 مئی تک مکمل ہو جائے گا۔

سردار یوسف کا کہنا تھا کہ حج آپریشن مکمل طور پر بہترین اور منظم انداز میں جاری ہے اور پاکستانی عازمین حج کو مدینہ منورہ کے مرکزی علاقے میں فائیو اسٹار، فور اسٹار اور تھری اسٹار ہوٹلز میں ٹھہرایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عازمین پہلے مدینہ منورہ میں قیام کرتے ہیں اور پھر مکہ مکرمہ منتقل ہوتے ہیں، جبکہ متعدد حجاج مکہ مکرمہ بھی پہنچ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق حج فلائٹس پاکستان کے مختلف شہروں اسلام آباد، لاہور، کراچی، سیالکوٹ، فیصل آباد اور کوئٹہ سے روانہ ہو رہی ہیں، تاہم زیادہ تر حجاج کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے سعودی عرب جا رہے ہیں۔

روٹ ٹو مکہ منصوبہ، لاہور بھی شامل

سردار محمد یوسف نے بتایا کہ سعودی حکومت نے رواں سال روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ کو لاہور تک توسیع دے دی ہے، جس کے تحت حجاج کو پاکستان ہی میں امیگریشن مکمل کرنے کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 18 اپریل کو لاہور سے سعودی ایئر لائن کی پہلی پرواز کے موقع پر افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں وہ خود شریک ہوئے، جبکہ پاکستان میں سعودی سفیر نواب بن سعید المالکی بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر کے قریباً 80 فیصد عازمین حج روٹ ٹو مکہ سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آئندہ سال روٹ ٹو مکہ منصوبے کو دیگر ایئرپورٹس تک بڑھانے کا فیصلہ حجاج کی تعداد اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا، جس میں پشاور اور کوئٹہ پر بھی غور ممکن ہے۔

رہائش، ٹرانسپورٹ اور سہولیات میں بہتری

وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان کے حجاج کو ماضی میں رہائش اور دیگر انتظامات کے حوالے سے مشکلات پیش آتی رہی ہیں، تاہم حکومت نے اس بار بہتر انتظامات کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حج ایک عبادت ہے اور حکومت حجاج کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی وزارت حج کے ساتھ پاکستان کے مسلسل رابطے اور ملاقاتیں ہوئیں، اور سعودی حکومت نے پاکستانی حجاج کے لیے تعاون اور سہولیات فراہم کیں۔

پبلک اور پرائیویٹ حج کا نظام

سردار محمد یوسف نے کہاکہ حکومت نے حج کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے، پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر۔ ان کے مطابق پبلک سیکٹر میں زیادہ تر ایسے افراد کو موقع دیا گیا ہے جو زیادہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر میں 2 پیکجز متعارف کروائے گئے ہیں۔

• شارٹ حج پیکج: قریباً 20 سے 25 دن، لاگت تقریباً 12 لاکھ روپے۔

• لانگ حج پیکج: قریباً 35 سے 40 دن، لاگت قریباً ساڑھے 11 لاکھ روپے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ اگرچہ اخراجات بڑھ گئے ہیں، تاہم پاکستان کا حج پیکج خطے میں بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت نے سہولیات میں کمی کیے بغیر حجاج کو بروقت کھانے، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنایا ہے۔

سعودی حکومت کے حج انتظامات مثالی

سردار محمد یوسف نے سعودی حکومت کے انتظامات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب نے حج کے تمام نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق اور سعودی حکام مسلسل میٹنگز کے ذریعے تمام معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ صحت کی سہولیات میں اضافہ کیا گیا ہے اور پاکستان نے اس سال 10 کے بجائے 35 ڈسپنسریاں قائم کی ہیں، تاکہ ہر پانچ ہزار حجاج کے لیے ایک ڈسپنسری موجود ہو۔

پرائیویٹ حج آپریٹرز کا معاملہ

وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال پرائیویٹ حج آپریٹرز کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث کئی عازمین حج سے محروم رہ گئے تھے، تاہم اس سال پرائیویٹ سیکٹر نے تمام معاملات ٹائم لائن کے مطابق مکمل کر لیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے پرائیویٹ حج آپریٹرز کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس حاصل کی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ گزشتہ سال رہ جانے والے عازمین کو اس سال ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے اور کسی شکایت کی اطلاع نہیں ملی۔

فری حج کا تصور ختم

سردار محمد یوسف نے واضح کیا کہ ن لیگ حکومت کے دور میں فری حج کا تصور مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی حج پر جائے گا وہ ادائیگی کے ساتھ جائے گا، البتہ جو افراد حجاج کی خدمت کے لیے جاتے ہیں وہ رضاکار اور سرکاری افسران ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قریباً 1700 سرکاری افسران اور رضاکار سعودی عرب جا رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی رضاکار خصوصی اجازت کے تحت حج کے پانچ دنوں میں خدمت انجام دیتے ہیں۔

حج کوٹہ بڑھانے کی کوشش

سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان نے حج کوٹہ بڑھانے کے لیے سعودی حکومت سے متعدد بار درخواست کی ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر سمیت پاکستان سے بھی عازمین حج کا سعودی عرب پہنچنے کا سلسلہ جاری، گرمی سے بچاؤ کے لیے خاص ہدایات

انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کے مطابق پاکستان میں مسلمانوں کی تعداد قریباً 23 کروڑ ہے، جس بنیاد پر پاکستان کا کوٹہ فارمولا کے مطابق 2 لاکھ 30 ہزار بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سعودی وزیر حج کو باقاعدہ خط بھی لکھا گیا ہے تاہم حتمی فیصلہ سعودی حکومت کی حج ایڈوائزری کونسل کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp