دنیا کی بڑی مصنوعی ذہانت یا اے آئی کمپنیاں ایک دلچسپ مگر متضاد حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں جو یہ ہے کہ وہ خود جدید اے آئی سسٹمز تیار کرتی ہیں، انہیں خطرناک قرار دیتی ہیں اور پھر انہی ٹیکنالوجیز کو فروخت بھی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اے آئی کمپنی انتھروپک نے اپنے نئے ماڈل ’کلاڈ مائتھوس‘ کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ سائبر سیکیورٹی میں خامیاں تلاش کرنے کی صلاحیت میں انسانی ماہرین سے کہیں آگے ہے اور اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو عالمی معیشت، عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس ماڈل کے ممکنہ اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں جس کے باعث اسے مکمل طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم کچھ ماہرین نے ان دعوؤں پر شکوک کا اظہار کیا ہے اور انہیں مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اے آئی کمپنیاں اپنے ہی بنائے نظام کو خطرناک قرار دے رہی ہوں۔ ماضی میں اوپن اے آئی نے بھی اپنے ماڈل جی پی ٹی-2 کو اسی بنیاد پر روک لیا تھا تاہم کچھ عرصے بعد اسے جاری کر دیا گیا۔
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین خود بھی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ بعد میں انہوں نے اس خدشے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا قرار دیا۔
مزید پڑھیے: مترجم آپ کی ناک پر، اے آئی عینک کا نیا کمال
اسی طرح انتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی اور دیگر ٹیکنالوجی رہنما بھی بارہا اے آئی کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے رہے ہیں۔ سنہ 2023 میں بل گیٹس، ایلون مسک اور ڈیمس ہسابس سمیت سینکڑوں ماہرین نے ایک بیان پر دستخط کیے جس میں اے آئی کو انسانیت کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔
ناقدین کے مطابق یہ حکمت عملی دراصل خوف پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہے جس کا مقصد عوام کی توجہ ان حقیقی مسائل سے ہٹانا ہے جو یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی پیدا کر رہی ہے۔ ان مسائل میں ماحولیاتی آلودگی، مزدوروں کا استحصال اور سماجی نظام پر منفی اثرات بھی شامل ہیں۔
ماہرِ اخلاقیات شینن ویلر کے مطابق اگر کسی ٹیکنالوجی کو غیر معمولی حد تک خطرناک بنا کر پیش کیا جائے تو عام لوگ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور پھر انہی کمپنیوں کو واحد حل سمجھنے لگتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ صارفین کے پاسپورٹ مانگنے لگا، وجہ کیا ہے؟
دوسری جانب کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی واقعی خطرات رکھتی ہے خاص طور پر سافٹ ویئر کی خامیاں تلاش کرنے اور بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کے باعث تاہم مصنوعی ذہانت کے سماجی، اخلاقی اور پالیسی سے متعلق اثرات پر تحقیق کرنے والے امریکی ادارے اے آئی ناؤ انسٹی ٹیوٹ کے چیف اے آئی سائنٹسٹ اور ہائڈی خلاف کے مطابق کمپنیوں کے دعوؤں کی مکمل تصدیق کے لیے شواہد ناکافی ہیں جیسے کہ سسٹمز کی درستی اور غلطیوں کی شرح کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض اوقات ایسی ٹیکنالوجیز کو محدود رکھنے کی وجہ تکنیکی وسائل کی کمی بھی ہو سکتی ہے نہ کہ صرف حفاظتی خدشات۔
ادھر اے آئی کے فروغ کے ساتھ کئی حقیقی مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں غلط طبی تشخیص، ذہنی صحت پر منفی اثرات، جعلی ویڈیوز (ڈیپ فیکس) اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان مسائل پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے
اس کے باوجود، یہی کمپنیاں ایک طرف جہاں تباہی کے خدشات ظاہر کرتی ہیں وہیں دوسری طرف ایک روشن مستقبل کی تصویر بھی پیش کرتی ہیں جن میں ماحولیاتی مسائل کا حل، خلائی بستیاں اور سائنسی ترقی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ تو کوئی مافوق الفطرت قوت ہے اور نہ ہی کنٹرول سے باہر ہے بلکہ یہ ایک ٹیکنالوجی ہے جسے انسانوں نے بنایا ہے اور اسے قوانین اور ضوابط کے تحت کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا ایف آئی اے کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی مجرموں کو پکڑنے میں مدد دے گی؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا اے آئی واقعی دنیا کے لیے خطرہ ہے یا یہ خدشات بھی ماضی کی دیگر ٹیکنالوجی پیشگوئیوں کی طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیے جا رہے ہیں؟ یہ فیصلہ وقت ہی کرے گا۔












