اسلام آباد میں پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں پن بجلی کے ذریعے بجلی کی پیداوار منگل کی رات کے دوران بڑھ کر 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جبکہ ملک کی مجموعی نصب شدہ پن بجلی کی صلاحیت 11,500 میگاواٹ ہے۔ اس بہتری کو قومی گرڈ کے استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بغیر بجلی چلنے والا نیا کولنگ سسٹم متعارف، ایئر کنڈیشنرز کا متبادل قرار
میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی گیس کی کچھ پاور پلانٹس کو فراہمی کے باعث بجلی کی مجموعی پیداوار میں مزید اضافہ ہوا، جس سے قومی بجلی کے نظام میں استحکام آیا۔ جنوبی علاقوں سے اضافی توانائی کی ترسیل کے باعث قومی گرڈ میں مزید 100 میگاواٹ شامل کیا گیا۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر 500 میگاواٹ بجلی جنوبی خطے سے قومی گرڈ کو فراہم کی گئی۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ رات پیک آورز میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے 25 منٹ سے ایک گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی، تاہم شام 8 بجے کے بعد موسم بہتر ہونے اور طلب میں کمی کے باعث لوڈ مینجمنٹ ختم کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی کی بچت: میٹا کا اپنے ڈیٹا سینٹرز شمسی توانائی سے چلانے کا منصوبہ
ترجمان کے مطابق ہائی لاس فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ اقتصادی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے اور یہ پیک آورز میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ سے مختلف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں ایل این جی کی کمی کے باعث تقریباً 5,000 میگاواٹ پیداواری صلاحیت عارضی طور پر دستیاب نہیں، تاہم ایل این جی کی بہتر فراہمی اور پانی کے اخراج میں اضافے سے رات کے وقت بجلی کی کمی میں کمی کی توقع ہے۔














