جرمن آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی، وجہ کیا ہے؟

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپ کی سب سے بڑی آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید لاگت میں کمی نہ کی گئی تو کمپنی کے مستقبل کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ منافع میں توقع سے زیادہ بڑی کمی سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جون ایلیا کے خاندان کی ووکس ویگن گاڑی راولپنڈی میں شاندار انداز میں بحال

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے جن میں چینی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا مقابلہ، امریکی ٹیرف اور الیکٹرک گاڑیوں کی غیر مستقل طلب شامل ہیں۔ کمپنی پہلے ہی جرمنی میں 2030 تک 50 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

چیف فنانشل آفیسر ارنو اینٹلٹز نے سہ ماہی نتائج کے بعد کہا کہ موجودہ کٹوتی اقدامات ناکافی ہیں اور کمپنی کو اپنے کاروباری ماڈل میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کمپنی کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

بڑھتا ہوا دباؤ

آڈی، سیٹ اور اسکوڈا جیسے برانڈز کی مالک جرمن کمپنی ووکس ویگن نے کہا ہے کہ اسے اپنی پیداوار کی صلاحیت کو ایڈجسٹ کرنا اور مختلف پلانٹس میں لاگت کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔

مزید پڑھیے: ماسٹر چنگان کا بڑا اقدام: پاکستان کی پہلی رینج ایکسٹینڈڈ ہائبرڈ گاڑٰی ڈیپل SO5 متعارف

سال 2026 ماڈل۔

کمپنی کے مطابق چینی آٹو مینوفیکچررز جیسے بی وائی ڈی کی تیز توسیع خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں ووکس ویگن کا مارکیٹ شیئر کم کر رہی ہے۔

مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف کے باعث کمپنی کو سالانہ تقریباً 4 ارب یورو اضافی لاگت کا سامنا ہے۔

منافع اور فروخت میں کمی

جنوری سے مارچ کے دوران کمپنی کا خالص منافع 28 فیصد کمی کے ساتھ 1.56 ارب یورو رہ گیا جبکہ آمدنی 76 ارب یورو تک گر گئی اور ماہرین کی توقعات سے کم رہی۔

اس عرصے میں کمپنی نے 20 لاکھ سے زائد گاڑیاں فروخت کیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہیں۔

چینی مارکیٹ میں گاڑیوں کی فروخت 15 فیصد جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 64 فیصد تک گر گئی۔ شمالی امریکا میں بھی 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آئندہ حکمت عملی

ووکس ویگن نے 2026 کے لیے 0 سے 3 فیصد تک فروخت میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ منافع کا ہدف 4 سے 5.5 فیصد کے درمیان رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور مہنگے پٹرول سے یورپی عوام کا رجحان الیکٹرک گاڑیوں کی طرف  بڑھ گیا

کمپنی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے ممکنہ اثرات کو غیر یقینی ہونے کے باعث اس کی پیش گوئی میں شامل نہیں کیا گیا۔

چیف ایگزیکٹو اولیور بلومے نے کہا کہ کمپنی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جن میں دفاعی پیداوار اور چینی ڈیزائن کی گاڑیاں جرمنی میں تیار کرنا بھی شامل ہے۔

سال 1930 ماڈل۔

انہوں نے کہا کہ چینی فیکٹریوں کی بڑھتی ہوئی کارکردگی کے باعث یورپی صنعت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اس لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔

وسیع تر معاشی اثرات

ووکس ویگن کی مشکلات جرمنی کے صنعتی شعبے میں بڑے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں روایتی مینوفیکچررز سست طلب، بڑھتے اخراجات اور عالمی مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی میں اعلیٰ معیاری تعلیم کے 10 پرکشش شعبے کون سے ہیں؟  

کمپنی کا سالانہ منافع سنہ 2025 میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی: تجارتی نقل و حمل میں رکاوٹوں سے غریب ممالک زیادہ متاثر، اقوام متحدہ

تھراپی کے ساتھ ساتھ ورزش اور اچھے دوستوں کی صحبت ذہنی سکون کے لیے ناگزیر ہے، زارا نور عباس

آن لائن ملازمت کے متلاشی ہوشیار: جعلی کلاؤڈ فلیئر کے ذریعے  بڑا فراڈ بے نقاب

اسلام آباد کے پیٹرول پمپس پر شہریوں کا جم غفیر، انتظامیہ کی اہم ہدایت

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

ویڈیو

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

کیا امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہوگا؟ جانیے ارکانِ پارلیمنٹ کی رائے

ماں کی دعا، بیٹا کرکٹ کمنٹیٹر بن گیا

کالم / تجزیہ

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری

جعفر پناہی کی آف سائیڈ کھلاڑی