پاکستان میں پولیو وائرس کے 2 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقوں سے سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا ملک سے پولیو کے خاتمے کا عزم، انسداد پولیو ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا
یہ صورتحال ان علاقوں میں وائرس کے مسلسل خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں ویکسینیشن اور رسائی کے مسائل بدستور موجود ہیں۔
قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو (این ای او سی) کے مطابق یہ نئے کیسز ایک ایک بچے میں ضلع بنوں اور شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد ملک میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔
بیان کے مطابق یہ کیسز پولیو سرویلنس نیٹ ورک کے ذریعے رپورٹ ہوئے اور ان کی تصدیق اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ڈبلیو ایچ او سے منظور شدہ ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کی۔
متاثرہ بچے بنوں کے یونین کونسل جانی خیل اور شمالی وزیرستان کے یونین کونسل گریوم سے تعلق رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: پولیو مہم میں کتنے بچوں کو ویکسین نہیں لگ سکی، وجوہات کیا تھیں؟
پاکستان دنیا کے ان 2 ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے جبکہ دوسرا ملک افغانستان ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل ویکسینیشن مہمات، مضبوط نگرانی اور عوامی آگاہی نہایت ضروری ہیں۔
پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے جبکہ اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو بار بار پولیو ویکسین دینا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید
واضح رہے کہ پاکستان میں 13 سے 19 اپریل تک ملک گیر انسداد پولیو مہم چلائی گئی تھی جس کے دوران 4 کروڑ 47 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔ اس کے علاوہ مئی میں ایک اور مہم کی تیاری جاری ہے جس کا ہدف تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بچے ہیں۔














