پولیو مہم میں کتنے بچوں کو ویکسین نہیں لگ سکی، وجوہات کیا تھیں؟

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رواں سال کی دوسری ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کے دوران تقریباً 3 لاکھ بچوں کو ویکسین نہیں لگائی جا سکی جس کے باعث مقررہ ہدف مکمل نہ ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان نے انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا

ایک ہفتے جاری رہنے والی اس مہم کا مقصد 5 سال سے کم عمر 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا تھا۔ تاہم، پیر کے روز نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 4 کروڑ 47 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق این ای او سی کا کہنا ہے کہ پولیو ورکرز کی انتھک محنت کے باعث ملک بھر میں کروڑوں بچوں تک ویکسین پہنچائی گئی۔ پولیو قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے وٹامن اے کے سپلیمنٹس بھی دیے گئے۔

صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد، سندھ میں ایک کروڑ 4 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 72 لاکھ اور بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔

اسلام آباد میں 4 لاکھ 41 ہزار، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 92 ہزار جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں تقریباً 7 لاکھ 17 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

مزید پڑھیے: شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا انٹرویو میں دعویٰ

این ای او سی کے مطابق اس مہم کی کامیابی میں والدین اور کمیونٹی کا تعاون نہایت اہم رہا۔

ایک پولیو ماہر کا کہنا ہے کہ مہم کے دوران کچھ بچوں کا رہ جانا غیر معمولی بات نہیں کیونکہ بعض بچے سفر میں ہوتے ہیں جبکہ کچھ کیسز میں والدین کی جانب سے انکار بھی سامنے آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر فراہم کردہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ مہم ایک کامیابی ہے کیونکہ عموماً ہر قومی مہم میں 8 لاکھ سے 10 لاکھ بچے رہ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: رواں برس کی آخری قومی پولیو مہم کا آغاز، 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

ماہر نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل ویکسینیشن نہایت ضروری ہے کیونکہ مئی سے ستمبر تک وائرس کے پھیلاؤ کا موسم شروع ہونے والا ہے جس میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس عرصے میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پولیو وائرس زیادہ متحرک ہو جاتا ہے جبکہ ستمبر کے اختتام سے مئی کے آغاز تک وائرس نسبتاً غیر فعال رہتا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان 2 آخری ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے جبکہ دوسرا ملک افغانستان ہے۔

یاد رہے کہ فروری میں ہونے والی پہلی انسداد پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی تھی، جبکہ تقریباً 10 لاکھ بچے رہ گئے تھے اور 53 ہزار انکار کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: سیلابی صورتحال کے باعث پنجاب کے 9 اضلاع میں پولیو مہم مؤخر

پاکستان میں سال 2025 کے دوران پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2026 میں اب تک سندھ کے ضلع سجاول سے ایک کیس سامنے آ چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ میں یومِ فتح کی پروقار تقریب، پاک افواج کو خراج تحسین

آئی ایم ایف آج پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی آئندہ قسط کی منظوری دیدے گا، وزیر خزانہ

بنگلہ دیش: انتخابات کے بعد سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں، فخرالاسلام

ویڈیو

معرکہ حق کا ایک سال: راجہ بازار راولپنڈی کے شہریوں کا مودی کو سخت پیغام

اگر پھر بھارتی جارحیت ہوئی تو جواب ’معرکۂ حق‘ کی طرح دیا جائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

آئندہ بجٹ میں آٹو سیکٹر کو ٹیکس ریلیف دینے کی تیاری، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان

کالم / تجزیہ

کتابوں کا عاشق افسانہ نگار

7مئی: انڈیا تین میں، نہ تیرہ میں

شہنشاہِ ہجر شو کمار بٹالوی