بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم طارق رحمان نے یومِ مزدور کے موقع پر خود کو اور اپنی کابینہ کو ‘مزدور’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور محنت کش مل کر ملک کی تعمیر کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے دارالحکومت ڈھاکا میں جاتیاتبادی سرمک دل کے زیرِ اہتمام یومِ مزدور کے موقع پر منعقدہ بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹریوں، تعمیرات، گارمنٹس، ٹرانسپورٹ اور خدمات سمیت ہر شعبے کے لوگ قومی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کی اہم کاروباری رہنماؤں سے ملاقات، معاشی صورتحال اور چیلنجز پر غور
طارق رحمان نے کہا ‘میں بھی آپ کی طرح اپنا نام ایک مزدور کے طور پر درج کرنا چاہتا ہوں اور ملک کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کرنا چاہتا ہوں’۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ کے اراکین بھی خود کو محنت کش طبقے کا حصہ سمجھیں گے اور ملک کی ترقی کے لیے مزدوروں کے شانہ بشانہ کام کریں گے۔
انہوں نے حکومت کے نعرے ‘ہم کام کریں گے، ہم ملک بنائیں گے، بنگلہ دیش سب سے پہلے’ کو دہراتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ترقی کے اہداف کے لیے متحد ہو جائیں۔
وزیرِاعظم نے مزدوروں پر زور دیا کہ وہ ‘قوم ساز مزدور’ بننے کا عہد کریں اور خوشحال بنگلہ دیش کے قیام کے لیے خود کو وقف کریں، جس پر شرکا نے یک آواز ہو کر حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کا دارومدار مزدوروں اور کسانوں کی فلاح و بہبود پر ہے۔ ‘اگر مزدور خوشحال ہوں گے تو بنگلہ دیش بھی خوشحال ہوگا’۔
یہ بھی پڑھیے: اتحاد ہی خود کفیل بنگلہ دیش کی تعمیر کی کنجی ہے، وزیراعظم طارق رحمان
طارق رحمان نے اعلان کیا کہ بند فیکٹریوں کو مرحلہ وار دوبارہ کھولا جائے گا تاکہ روزگار بحال ہو سکے، اور اس سلسلے میں متعلقہ فریقین سے مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے ڈھاکا میں بے دخل کیے گئے ریڑھی بانوں کے حوالے سے کہا کہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ ان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ روزگار جاری رکھ سکیں۔
اس جلسے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سینئر رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن کا تعلق ڈھاکا اور قریبی صنعتی علاقوں سے تھا۔














