بوئنگ 747 کا وہ طیارہ، جو قطر کی جانب سے امریکی صدر کو تحفے میں دیا گیا تھا، ٹیسٹنگ مرحلہ کامیابی سے مکمل کر چکا ہے اور امکان ہے کہ رواں موسمِ گرما میں اسے باضابطہ طور پر استعمال کے لیے پیش کیا جائے گا۔
امریکا فضائیہ کے مطابق اس طیارے کی مرمت، جدید سازی اور پروازوں کی آزمائش مکمل ہو چکی ہے اور اب اسے نئی سرخ، سفید اور نیلی رنگت میں پینٹ کیا جا رہا ہے، جو امریکی صدارتی طیارے کی روایتی پہچان ہے۔
دفاعی کمپنی ایل تھری ہیریس ٹیکنالوجیز کے ایک ترجمان کے مطابق طیارے میں جدید مواصلاتی نظام نصب کیا گیا ہے تاکہ صدر کو دنیا کے کسی بھی حصے میں محفوظ اور بلاتعطل رابطے کی سہولت حاصل ہو سکے۔ اس نظام کو خصوصی طور پر اعلیٰ سطحی حکومتی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایئر انڈیا کی پرواز 8 گھنٹے بعد واپس، غلط طیارہ استعمال ہونے کا انکشاف
یہ طیارہ اب امریکی فضائیہ کے خصوصی بیڑے میں شامل ہو کر بطور صدارتی طیارہ استعمال ہوگا، جسے عام طور پر ایئر فورس ون کہا جاتا ہے۔
تاہم اس معاہدے نے ابتدا ہی سے آئینی اور اخلاقی بحث کو جنم دیا تھا، کیونکہ کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے اتنی قیمتی پرواز کا تحفہ دینے پر سکیورٹی خدشات اور مفادات کے ٹکراؤ پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق قطر نے یہ طیارہ مئی 2025 میں پیش کیا تھا، جسے بعد ازاں امریکی محکمہ دفاع نے قواعد و ضوابط کے تحت قبول کیا۔ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں تمام ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں تاکہ اسے صدرِ امریکا کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔














