کراچی میں قائم عوامی لائبریری ‘کتاب گھر’ شہریوں کے بھرپور تعاون کے باعث بند ہونے سے بچ گئی، جب کہ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ انہیں متوقع ہدف سے 3 گنا زیادہ فنڈز موصول ہوئے ہیں۔
لائبریری کی انتظامیہ نے منگل کے روز فنڈز کے لیے اپیل جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ کرائے میں اضافے کے باعث موجودہ مقام پر لائبریری چلانا ممکن نہیں رہا اور منتقلی کے لیے 5 لاکھ روپے درکار ہیں۔ تاہم جمعہ کو، اپیل کے صرف 3 دن بعد، انتظامیہ نے خوشخبری سنائی کہ نہ صرف ہدف حاصل ہو گیا بلکہ شہریوں نے توقع سے کہیں بڑھ کر تعاون کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل ڈکیتی: ایک کلک آپ کو کنگال کر سکتا ہے، کراچی کے شہری نے ہیکرز کو کیسے مات دی؟
اعلان میں کہا گیا ‘کراچی آپ نے کر دکھایا۔ ہم نے جب فنڈز کے لیے اپیل کی تو ہم عارضی طور پر بندش کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، مگر آپ سب نے ہمیں روک دیا۔ ہم نے 53 منٹ میں ہدف حاصل کر لیا اور 3 دن میں اسے 3 گنا بڑھا دیا۔’
انتظامیہ کے مطابق عطیات مقامی ذرائع کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے بھی موصول ہوئے، جن میں وینمو اور زیل جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ انفرادی عطیات 500 روپے سے لے کر 1350 ڈالر یعنی 3 لاکھ 70 ہزار روپے سے زائد تک رہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہنری فورڈ کی سوانح حیات پر مبنی کتاب 64 سال بعد واپس واشنگٹن کی لائبریری پہنچ گئی
لائبریری کے موجودہ مقام کو بھی ایک نامعلوم مددگار کی مداخلت سے عارضی طور پر بچا لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں تاکہ آئندہ 11 ماہ تک یہیں خدمات جاری رکھی جا سکیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی کم خرچ اور پائیدار مقام پر منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال انہیں بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے منتقلی کا وقت فراہم کرے گی۔
‘کتاب گھر’ جلد تقریبات کا انعقاد بھی کرے گا تاکہ اخراجات پورے کیے جا سکیں، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مزید معلومات کے لیے سوشل میڈیا سے جڑے رہیں۔














