امریکا نے اپنے اتحادی ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، کے زیر استعمال ایف 16 لڑاکا طیاروں کے اہم ریڈار سسٹمز کی دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک بڑا معاہدہ کیا ہے۔
پاکستان ٹی وی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے 488 ملین ڈالر تک مالیت کا یہ معاہدہ دفاعی کمپنی نارتھروپ گرومین کو دیا ہے، جو ایف-16 طیاروں میں نصب APG-66 اور APG-68 ریڈار سسٹمز کی انجینئرنگ اور تکنیکی سپورٹ فراہم کرے گی۔
🚨🇺🇸🇵🇰🇮🇳 BREAKING: US has approved radar upgrades for Pakistan Air Force F-16 fleet, despite India's request not to do so. pic.twitter.com/SiqXMv3pig
— Nova Intel (@intel_nova) May 1, 2026
یہ معاہدہ کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ ایک ’ملٹی نیشن سپورٹ فریم ورک‘ کے تحت کیا گیا ہے، جس کے ذریعے 20 سے زائد ممالک آئندہ ایک دہائی تک ان سسٹمز کی مرمت، اپ گریڈ اور تکنیکی مدد حاصل کر سکیں گے۔
معاہدے کے تحت تمام کام امریکی ریاست میری لینڈ میں انجام دیا جائے گا اور یہ سلسلہ 2036 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق یہ منصوبہ طویل المدتی فضائی بیڑوں کی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کے حوالے سے یہ پیشرفت کسی نئی خریداری کے بجائے موجودہ ایف 16 طیاروں کی مسلسل دیکھ بھال اور سپورٹ کا تسلسل ہے، جو ملک کی فضائی صلاحیت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے پاکستان کے ایف 16 بیڑے کی اپ گریڈیشن کے لیے 686 ملین ڈالر کے ایک علیحدہ منصوبے کی بھی اطلاع دی تھی، جس میں جدید ایویونکس، محفوظ کمیونیکیشن سسٹمز اور ڈیٹا لنک ٹیکنالوجی کی بہتری شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پولینڈ کا ایف 16 طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک
امریکی حکام کے مطابق ان اپ گریڈز کا مقصد طیاروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور انہیں آئندہ دہائی تک فعال رکھنا ہے، بغیر اس کے کہ زمینی سطح پر اضافی امریکی موجودگی درکار ہو۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ دونوں اقدامات امریکہ اور اس کے شراکت دار ممالک کے درمیان “مینٹیننس بیسڈ دفاعی تعاون” کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں بڑے پیمانے پر نئے ہتھیاروں کی بجائے موجودہ نظاموں کی بہتری اور تسلسل پر توجہ دی جا رہی ہے۔














