امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی سابقہ سخت شرائط میں نرمی اختیار کرلی ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ کے پاکستان کے دورے، کیا مستقبل قریب میں امریکا ایران مذاکرات کا امکان ہے؟
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت کی بحالی کے بدلے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حملے روکنے کی ضمانت دی جائے جبکہ محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر بات چیت کی پیشکش کی ہے۔
اخبار کے مطابق تہران نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد جوہری امور پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں زیرِ غور لایا جائے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے، تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے نہ کوئی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہو چکا ہے، جس میں فریقین کسی نکتے پر متفق نہیں ہو سکے تھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ساتھ فون پر بات چیت جاری ہے، 18 گھنٹے کا سفر کرکے ایسی باتیں کرنے کا فائدہ نہیں جن کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں سفارتکاری، میئر لندن کی وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی بمباری سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے، اور اس کا ایران کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔














