فلوریڈا دوہرے قتل کیس میں پیشرفت، بنگلہ دیشی پی ایچ ڈی طالبہ کی لاش کی شناخت

اتوار 3 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست فلوریڈا میں لاپتا ہونے والی بنگلہ دیشی پی ایچ ڈی طالبہ ناہیدہ سلطانہ برشتی کی لاش کی باقاعدہ شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کر لی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ شناخت 2 ہفتے قبل شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد ممکن ہوئی، جس میں پہلے مرحلے پر سی سی ٹی وی فوٹیج اور بعد ازاں فرانزک شواہد کا سہارا لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں 2 بنگلہ دیشی طلبا کے قتل پر بنگلہ دیش کا فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ہلزبرو کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق ابتدائی طور پر برشتی کے کپڑوں کو اس کی آخری سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے لباس سے میچ کیا گیا، تاہم لاش کی حالت کے باعث حتمی شناخت کے لیے ڈی این اے اور دانتوں کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا گیا۔

ناہیدہ برشتی یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا، ٹمپا بے کیمپس میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں اور 16 اپریل کو لاپتا ہو گئی تھیں۔ اسی روز ایک اور بنگلہ دیشی پی ایچ ڈی طالب علم جمیل احمد لیمون بھی پراسرار طور پر غائب ہو گئے تھے۔

بعد ازاں 7 دن کے اندر لیمون کی مسخ شدہ لاش ہاورڈ فرینک لینڈ برج کے قریب ایک کچرے کے سیاہ کے تھیلے سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق لاش کو اس انداز میں پھینکا گیا تھا جیسے عام کچرا سڑک کنارے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ہلزبرو کاؤنٹی کے شیرف چاڈ کرونیسٹر نے بتایا کہ اس کیس میں 26 سالہ ہشام ابو غریب، جو لیمون کا روم میٹ بتایا جاتا ہے، کو اسی روز گرفتار کر لیا گیا جب لیمون کی لاش ملی۔ تفتیش کے دوران پولیس کو ملزم کی گاڑی سے برشتی کے خون کے نشانات بھی ملے، جبکہ رہائش گاہ سے ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں متاثرین کو وہیں قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھٰں:ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں نوجوان کانٹینٹ کریئیٹر قتل

اگرچہ برشتی کی ہلاکت کی تصدیق پہلے ہی ہو چکی تھی، لیکن ان کی لاش فوری طور پر نہیں ملی تھی۔ بعد ازاں 26 اپریل کو مقامی ماہی گیروں نے اسی علاقے کے قریب مینگروو جنگل میں ایک اور سیاہ پلاسٹک بیگ دیکھا، جس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ سرچ آپریشن کے دوران وہاں سے انسانی باقیات برآمد ہوئیں، تاہم حالت کے باعث شناخت ممکن نہیں تھی۔

بعد میں کرمنل افیڈیوٹ میں بتایا گیا کہ برآمد شدہ باقیات کے ساتھ ملنے والے کپڑے سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے لباس سے مکمل طور پر میچ کرتے ہیں۔ 30 اپریل کو ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ان کی شناخت باضابطہ طور پر نہیدہ برشتی کے طور پر کر لی گئی۔

حکام کے مطابق دونوں لاشوں کو وطن واپس بھیجنے کے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں، جبکہ ملزم ہشام ابو غریب بغیر ضمانت کے حراست میں ہے اور اس پر دوہرے پہلے درجے کے قتل سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تفتیشی ادارے کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اس واقعے نے امریکی تعلیمی اداروں میں غیر ملکی طلبہ کی حفاظت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 9 افراد ہلاک، ایک سالہ بچہ بھی شامل

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسکینڈل: سرکاری زمین، لگژری فلیٹس اور اربوں روپے کی عدم ادائیگی کا تنازع دوبارہ زیرِ بحث

جمائما گولڈ سمتھ کی ایک بار پھر ارب پتی بزنس مین سے شادی کی تیاری

بنگلہ دیش: اپوزیشن کا حکومت پر اصلاحات سے انحراف کا الزام، آمرانہ رجحانات کے خدشات

‏اظہر مشوانی کی ہم خیال گروپ کے ہمراہ برطانیہ میں مولانا طاہر اشرفى  اور ان كى فيملى پر حمله

ویڈیو

پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو، سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع

پاکستان کا آئی کیوب قمر مشن، کامیابیاں کیا رہیں اور اگلی لانچ کب؟

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگز مین کے شائقین ٹرافی جیتنے کے لیے پُرامید

کالم / تجزیہ

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ