امریکی ریاست فلوریڈا میں لاپتا ہونے والی بنگلہ دیشی پی ایچ ڈی طالبہ ناہیدہ سلطانہ برشتی کی لاش کی باقاعدہ شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کر لی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ شناخت 2 ہفتے قبل شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد ممکن ہوئی، جس میں پہلے مرحلے پر سی سی ٹی وی فوٹیج اور بعد ازاں فرانزک شواہد کا سہارا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں 2 بنگلہ دیشی طلبا کے قتل پر بنگلہ دیش کا فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
ہلزبرو کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق ابتدائی طور پر برشتی کے کپڑوں کو اس کی آخری سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے لباس سے میچ کیا گیا، تاہم لاش کی حالت کے باعث حتمی شناخت کے لیے ڈی این اے اور دانتوں کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا گیا۔
ناہیدہ برشتی یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا، ٹمپا بے کیمپس میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں اور 16 اپریل کو لاپتا ہو گئی تھیں۔ اسی روز ایک اور بنگلہ دیشی پی ایچ ڈی طالب علم جمیل احمد لیمون بھی پراسرار طور پر غائب ہو گئے تھے۔
Body found by Florida kayaker identified as second missing Bangladesh student https://t.co/geExGk4OS7
— Sky News (@SkyNews) May 1, 2026
بعد ازاں 7 دن کے اندر لیمون کی مسخ شدہ لاش ہاورڈ فرینک لینڈ برج کے قریب ایک کچرے کے سیاہ کے تھیلے سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق لاش کو اس انداز میں پھینکا گیا تھا جیسے عام کچرا سڑک کنارے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ہلزبرو کاؤنٹی کے شیرف چاڈ کرونیسٹر نے بتایا کہ اس کیس میں 26 سالہ ہشام ابو غریب، جو لیمون کا روم میٹ بتایا جاتا ہے، کو اسی روز گرفتار کر لیا گیا جب لیمون کی لاش ملی۔ تفتیش کے دوران پولیس کو ملزم کی گاڑی سے برشتی کے خون کے نشانات بھی ملے، جبکہ رہائش گاہ سے ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں متاثرین کو وہیں قتل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھٰں:ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں نوجوان کانٹینٹ کریئیٹر قتل
اگرچہ برشتی کی ہلاکت کی تصدیق پہلے ہی ہو چکی تھی، لیکن ان کی لاش فوری طور پر نہیں ملی تھی۔ بعد ازاں 26 اپریل کو مقامی ماہی گیروں نے اسی علاقے کے قریب مینگروو جنگل میں ایک اور سیاہ پلاسٹک بیگ دیکھا، جس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ سرچ آپریشن کے دوران وہاں سے انسانی باقیات برآمد ہوئیں، تاہم حالت کے باعث شناخت ممکن نہیں تھی۔
بعد میں کرمنل افیڈیوٹ میں بتایا گیا کہ برآمد شدہ باقیات کے ساتھ ملنے والے کپڑے سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے لباس سے مکمل طور پر میچ کرتے ہیں۔ 30 اپریل کو ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ان کی شناخت باضابطہ طور پر نہیدہ برشتی کے طور پر کر لی گئی۔

حکام کے مطابق دونوں لاشوں کو وطن واپس بھیجنے کے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں، جبکہ ملزم ہشام ابو غریب بغیر ضمانت کے حراست میں ہے اور اس پر دوہرے پہلے درجے کے قتل سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تفتیشی ادارے کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اس واقعے نے امریکی تعلیمی اداروں میں غیر ملکی طلبہ کی حفاظت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔














