امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کے لیے 8.6 ارب ڈالر کے اسلحہ فراہمی سے متعلق معاہدوں کی منظوری دے دی ہے، جس پر ہنگامی حالات کو بنیاد بناتے ہوئے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر عمل کیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلے قومی سلامتی کے مفاد میں کیے گئے ہیں کیونکہ خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور حالیہ جنگ کے باعث صورتحال غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک کو ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکہ میں شدت پسند تنظیم کے 4 مبینہ ارکان گرفتار، اسلحہ اور ڈرون برآمد
معاہدوں کے تحت اسرائیل کو 992 ملین ڈالر مالیت کا جدید پریسیژن کِل ویپن سسٹم اور متعلقہ آلات فراہم کیے جائیں گے۔ کویت کے لیے 2.5 ارب ڈالر کے جنگی کمانڈ سسٹمز کی خریداری منظور کی گئی ہے جو اس کے فضائی دفاعی نظام اور ریڈار صلاحیت کو بہتر بنائیں گے۔
قطر کو تقریباً 5 ارب ڈالر کے اخراجات سے پیٹریاٹ فضائی و میزائل دفاعی نظام کی ری اسٹاکنگ اور دیگر متعلقہ نظام خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کو بھی 148 ملین ڈالر مالیت کے اسی نوعیت کے دفاعی آلات کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی مسلم تنظیم کی ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیان کی مذمت، کانگریس سے ایران جنگ روکنے کا مطالبہ
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان سودوں کے لیے تفصیلی جواز پیش کیا گیا ہے تاکہ فوری ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اس سے قبل مارچ میں بھی امریکا نے متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن کے لیے 16.5 ارب ڈالر کے بڑے دفاعی معاہدوں کی منظوری دی تھی، جن میں ڈرون، میزائل، ریڈار سسٹمز اور ایف-16 طیارے شامل تھے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی طلب کے باعث امریکا کے ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے مستقبل میں کسی بڑے عالمی تنازع، خصوصاً چین کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کی صورت میں امریکی تیاریوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔














