امریکا نے آبنائے ہرمز میں اپنی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش پر تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے سمیت ایران واپسی کے لیے پاکستان کے حوالے کردیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی کنٹینر جہاز ایم وی توسکا پر موجود 22 عملے کے ارکان گزشتہ رات پاکستان پہنچ گئے، جنہیں آج ایرانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد پاکستانی سمندری حدود میں واپس لایا جائے گا تاکہ اسے اس کے اصل مالکان کے حوالے کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی ’دوستانہ‘ ہے، ایرانی تجاویز کا جلد جائزہ لوں گا، صدر ٹرمپ
ترجمان وزارت خارجہ نے اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی میں کمی اور اعتماد سازی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایران اور امریکا دونوں فریقین کے تعاون اور ہم آہنگی سے کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کے فروغ میں اپنا کردار جاری رکھتے ہوئے ثالثی کی کوششوں کو فروغ دیتا رہے گا۔
🔊PR No.1️⃣1️⃣4️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Facilitates Transfer of Iranian Crew Members
🔗⬇️ pic.twitter.com/hhe0eNVh1K— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 4, 2026
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے اے بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ امریکی افواج نے ایم وی توسکا کے 22 عملے کے ارکان کو وطن واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مزید 6 افراد کو گزشتہ ہفتے ہی خطے کے ایک ملک میں منتقل کر دیا گیا تھا، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 6 افراد عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ تھے۔
🇺🇸 🇮🇷 🇵🇰 The Iranian vessel Touska, seized by US forces, has been transferred to Pakistan along with its crew for repatriation to Iran
🔺️ABC News reported, citing a CENTCOM Spox
The ship was intercepted two weeks ago after US forces fired on it and boarded it with Marines. pic.twitter.com/eKnEsx1zAY
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) May 4, 2026
کیپٹن ہاکنز کے مطابق توسکا جہاز کی تحویل بھی اس کے اصل مالک کو واپس کی جا رہی ہے، کیونکہ اسے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: غیر جانبدار ممالک کے جہاز آبنائے ہرمز سے نکالنے کے لیے صدر ٹرمپ نے پروجیکٹ فریڈم کا اعلان کردیا
امریکی حکام کے مطابق 19 اپریل کو جب توسکا کے عملے نے امریکی بحری جہازوں کی جانب سے دی گئی 6 گھنٹے کی وارننگ کو نظر انداز کیا تو ایک امریکی ڈسٹرائر نے جہاز کے انجن روم پر متعدد گولے داغے۔
بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھائی کر کے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔













