ایک نئی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی نے ایسے مردوں میں بھی اسپرم تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جنہیں پہلے بانجھ قرار دے دیا گیا تھا جس سے برسوں سے اولاد کے خواہشمند جوڑوں کے لیے نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: بانجھ پن کی بنیاد پر مہر یا نان نفقہ دینے سے انکار غیر قانونی قرار
بی بی سی کے مطابق امریکا میں ایک خاتون پینیلوپ کو نومبر 2025 میں اپنے ڈاکٹر کی جانب سے وہ خبر ملی جس کا وہ ڈھائی سال سے انتظار کر رہی تھیں، وہ حاملہ ہو چکی تھیں۔ متعدد ٹیسٹس کے بعد معلوم ہوا تھا کہ ان کے شوہر سیموئل کو ایک جینیاتی بیماری (کلائن فیلٹر سنڈروم) ہے جس میں مردوں میں اسپرم نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں جسے ایزو اسپرمیا کہا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً ہر 6 میں سے ایک فرد کو زندگی میں کسی نہ کسی وقت بانجھ پن کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے جبکہ مردانہ بانجھ پن تقریباً 50 فیصد کیسز میں شامل ہوتا ہے۔
ایزو اسپرمیا ایسے مردوں میں پایا جاتا ہے جن میں اسپرم کی تعداد انتہائی کم یا بالکل نہیں ہوتی جس کے باعث انہیں اولاد کا امکان نہ ہونے کے برابر بتایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: مردانہ بانجھ پن اور فضائی آلودگی، سائنس کیا کہتی ہے؟
تاہم اب ایک نئی ٹیکنالوجی، جسے ’اسٹار سسٹم‘ (اسپرم کی تلاش اور بازیابی نظام) کہا جاتا ہے اس صورتحال کو بدل رہی ہے۔ یہ نظام مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسے ’چھپے ہوئے اسپرم‘ کو تلاش کرتا ہے جو عام طریقوں سے نظر نہیں آتے۔
یہ نظام ایک خاص مائیکرو فلوئیڈک چپ اور جدید امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جو نمونے کو انتہائی باریکی سے اسکین کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا الگورتھم فی سیکنڈ سینکڑوں تصاویر کا جائزہ لے کر اسپرم کو پہچانتا ہے اور پھر ایک روبوٹک نظام انہیں فوری طور پر الگ کر لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ انسانی ماہرین کے مقابلے میں 40 گنا زیادہ اسپرم تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بعض کیسز میں تقریباً 30 فیصد مریضوں میں کامیابی سے اسپرم کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا فاسٹ فوڈ کا استعمال خواتین میں بانجھ پن پیدا کر سکتا ہے؟
سیموئل کے کیس میں ڈاکٹروں کو سرجری کے باوجود اسپرم نہیں ملے تاہم اسی نمونے کو نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جانچنے پر 8 اسپرم خلیات دریافت ہوئے جنہیں پینیلوپ کے انڈوں میں داخل کیا گیا۔ ان میں سے ایک کامیاب ایمبریو میں تبدیل ہوا اور اب ان کے ہاں بچے کی پیدائش متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بانجھ پن کے علاج میں انقلاب لا سکتی ہے بلکہ ان لاکھوں مردوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جنہیں پہلے کبھی اولاد کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے طویل مدتی نتائج جاننے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر تحقیق ضروری ہے جبکہ مریضوں کے ڈیٹا، رازداری اور علاج کی مؤثریت سے متعلق سوالات بھی اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آئی وی ایف میں جینیاتی اسکریننگ بڑی عمر کی خواتین کے لیے امید کی نئی کرن
اس کے باوجود یہ پیشرفت ان افراد کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آئی ہے جو طویل عرصے سے اولاد کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔













