اے آئی کی مدد سے پوشیدہ ’خزانے‘ کی کامیاب تلاش، بانجھ مردوں کے لیے اچھی خبر

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نئی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی نے ایسے مردوں میں بھی اسپرم تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جنہیں پہلے بانجھ قرار دے دیا گیا تھا جس سے برسوں سے اولاد کے خواہشمند جوڑوں کے لیے نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: بانجھ پن کی بنیاد پر مہر یا نان نفقہ دینے سے انکار غیر قانونی قرار

بی بی سی کے مطابق امریکا میں ایک خاتون پینیلوپ کو نومبر 2025 میں اپنے ڈاکٹر کی جانب سے وہ خبر ملی جس کا وہ ڈھائی سال سے انتظار کر رہی تھیں، وہ حاملہ ہو چکی تھیں۔ متعدد ٹیسٹس کے بعد معلوم ہوا تھا کہ ان کے شوہر سیموئل کو ایک جینیاتی بیماری (کلائن فیلٹر سنڈروم) ہے جس میں مردوں میں اسپرم نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں جسے ایزو اسپرمیا کہا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً ہر 6 میں سے ایک فرد کو زندگی میں کسی نہ کسی وقت بانجھ پن کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے جبکہ مردانہ بانجھ پن تقریباً 50 فیصد کیسز میں شامل ہوتا ہے۔

ایزو اسپرمیا ایسے مردوں میں پایا جاتا ہے جن میں اسپرم کی تعداد انتہائی کم یا بالکل نہیں ہوتی جس کے باعث انہیں اولاد کا امکان نہ ہونے کے برابر بتایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: مردانہ بانجھ پن اور فضائی آلودگی، سائنس کیا کہتی ہے؟

تاہم اب ایک نئی ٹیکنالوجی، جسے ’اسٹار سسٹم‘ (اسپرم کی تلاش اور بازیابی نظام) کہا جاتا ہے اس صورتحال کو بدل رہی ہے۔ یہ نظام مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسے ’چھپے ہوئے اسپرم‘ کو تلاش کرتا ہے جو عام طریقوں سے نظر نہیں آتے۔

یہ نظام ایک خاص مائیکرو فلوئیڈک چپ اور جدید امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جو نمونے کو انتہائی باریکی سے اسکین کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا الگورتھم فی سیکنڈ سینکڑوں تصاویر کا جائزہ لے کر اسپرم کو پہچانتا ہے اور پھر ایک روبوٹک نظام انہیں فوری طور پر الگ کر لیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ طریقہ انسانی ماہرین کے مقابلے میں 40 گنا زیادہ اسپرم تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بعض کیسز میں تقریباً 30 فیصد مریضوں میں کامیابی سے اسپرم کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا فاسٹ فوڈ کا استعمال خواتین میں بانجھ پن پیدا کر سکتا ہے؟

سیموئل کے کیس میں ڈاکٹروں کو سرجری کے باوجود اسپرم نہیں ملے تاہم اسی نمونے کو نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جانچنے پر 8 اسپرم خلیات دریافت ہوئے جنہیں پینیلوپ کے انڈوں میں داخل کیا گیا۔ ان میں سے ایک کامیاب ایمبریو میں تبدیل ہوا اور اب ان کے ہاں بچے کی پیدائش متوقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بانجھ پن کے علاج میں انقلاب لا سکتی ہے بلکہ ان لاکھوں مردوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جنہیں پہلے کبھی اولاد کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے طویل مدتی نتائج جاننے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر تحقیق ضروری ہے جبکہ مریضوں کے ڈیٹا، رازداری اور علاج کی مؤثریت سے متعلق سوالات بھی اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آئی وی ایف میں جینیاتی اسکریننگ بڑی عمر کی خواتین کے لیے امید کی نئی کرن

اس کے باوجود یہ پیشرفت ان افراد کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آئی ہے جو طویل عرصے سے اولاد کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ بار انتخابات، صدر سمیت اہم عہدوں کے امیدواروں کی عبوری فہرست جاری

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی