امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیشرفت کے بعد بحیرۂ ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف مہم کے دوران امریکا کو ’بڑی فوجی کامیابی‘ حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔
“We have mutually agreed that, while the Blockade will remain in full force and effect, Project Freedom (The Movement of Ships through the Strait of Hormuz) will be paused for a short period of time to see whether or not the Agreement can be finalized and signed…” – President… pic.twitter.com/R9SlC4w68g
— The White House (@WhiteHouse) May 5, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق دونوں فریقین نے باہمی طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگرچہ ایران کے خلاف عائد ناکہ بندی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی، تاہم “پروجیکٹ فریڈم” — جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے — کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا جاری مذاکرات کو حتمی شکل دے کر باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ پیشرفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔












