پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان قائم کوآرڈینیشن کمیٹی کی صورتحال پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ یہ کمیٹی 2024 کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان اتحادی حکومت کے امور، پاور شیئرنگ، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اور صوبائی فیصلوں میں مشاورت کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ تاہم جنوری 2025 میں پیپلز پارٹی نے اس کمیٹی سمیت تمام مذاکراتی کمیٹیوں کو ختم کردیا تھا۔
کوآرڈینیشن کمیٹی کیوں ختم ہوئی؟
جنوری 2025 میں اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ پاور شیئرنگ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی میں شرکت نہیں کریں گے۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں نئی محاذ آرائی کیوں؟
اس اجلاس میں پنجاب سے پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے مسلم لیگ ن پر سنگین الزامات عائد کیے کہ وہ انہیں کلیدی فیصلوں اور قانون سازی سے مکمل طور پر خارج کررہی ہے۔
اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی طرف سے زرعی ٹیکس میں اضافہ 45 فیصد سے 20 فیصد کم کرنے کی پیپلز پارٹی کی تجویز کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں میں تناؤ مزید بڑھا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے ان خامیوں کی وجہ سے تمام کمیٹیوں کو تحلیل کردیا اور مذاکرات کی مکمل ذمہ داری پارٹی صدر آصف علی زرداری کو سونپ دی، جو براہ راست وزیراعظم سے رابطہ کریں گے۔
پیپلزپارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ اس کمیٹی کا جب بھی اجلاس ہوا ن لیگ کے رہنماوں نے یقین دلایا کہ پیپلزپارٹی جن اضلاع میں پاور شیرنگ چاہتی ہے وہاں مل کر چلیں گے، مگر ن لیگ کبھی اپنے وعدوں پر پورا نہیں اتری، اور فنڈز کے معاملے پر بھی پیپلزپارٹی اراکین کو تنگ کیا جاتا رہا۔
پاور شئیرنگ کمیٹی میں ن لیگ کی طرف سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان جبکہ پیپلزپارٹی کی طرف سے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، گورنر پنجاب سیلم حیدر خان، حسن مرتضیٰ اور پارلیمانی لیڈر سید علی حیدر گیلانی شامل تھے۔
دونوں جماعتوں نے مارچ اور اپریل 2025 میں گورنر ہاؤس لاہور میں کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس دوبارہ شروع کیے۔ ان اجلاسوں میں پیپلز پارٹی کے 30 صوبائی ارکان کے حلقوں میں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی، بیوروکریٹک ٹرانسفرز میں پیپلز پارٹی کا حصہ اور پنجاب حکومت کے منصوبوں پر مشاورت ہوئی لیکن مسائل حل نہ ہوئے۔
اس کے بعد نومبر 2025 تک مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا، لیکن کچھ فنڈز جاری کیے گئے اور بعد میں پھر روک دیے گئے، جس سے دونوں جماعتوں کی پنجاب میں دوریاں مزید بڑھ گئیں۔
اب تمام تر ذمہ داری آصف زردری کو سونپ دی گئی ہے، سید علی حیدر گیلانی
پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے پہلے کچھ اجلاسوں میں ن لیگ کا مثبت رویہ سامنے آیا لیکن بعد میں اس کمیٹی کو ہی نظر انداز کیا جانے لگا جس کی وجہ سے اب مذاکرات کی تمام ذمہ داری آصف علی زرداری کو سونپ دی گی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کوآرڈینیشن کمیٹی بنانے کا مقصد یہ تھا کہ دونوں جماعتیں مل کر مسائل حل کریں گی مگر کمیٹی ہونے کے باوجود ہمارے تحفظات دور نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے یہ کمیٹی تحلیل کر کے اس کی ذمہ داری آصف علی زرداری کو سونپ دی گی ہے، اب وہ تمام معاملات کو دیکھتے ہیں۔
یہ کمیٹی اب فعال طور پر اجلاس نہیں کررہی، البتہ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے ارکان اب بھی بعض مسائل پر شکایت کرتے ہیں، لیکن ن لیگ پیپلزپارٹی کی پنجاب میں شکایات کو نظر انداز کررہی ہے، اور ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سیاسی کشیدگی: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے پر اتفاق
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان پل کا کام کرتی رہی ہے مگر مستقل تناؤ کی وجہ سے اس کی کارکردگی محدود رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال دونوں جماعتیں براہ راست اعلیٰ قیادت کی سطح پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کوئی نئی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان نہیں کیا گیا۔













