یونیورسٹی آف یارک اور ویلکم سینگر انسٹیٹیوٹ کے ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق نے ارتقا کے متعلق اس قدیم نظریے کو چیلنج کردیا ہے کہ یہ محض ایک بے ترتیب یا غیر متوقع عمل ہے۔
تحقیق کے مطابق فطرت اکثر بقا کے چیلنجز حل کرنے کے لیے پہلے سے موجود جینیاتی ’بلیو پرنٹس‘ یا نقشوں پر عمل کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 55 کروڑ سال پرانا نایاب فوسل دریافت، ابتدائی حیاتیاتی ارتقا کا بڑا راز بے نقاب
جنوبی امریکا کے برساتی جنگلات میں کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تتلیاں اور پروانے ایک دوسرے سے دور کا تعلق رکھنے کے باوجود گزشتہ 120 ملین سال سے اپنے پروں پر خبردار کرنے والے یکساں رنگ و روپ پیدا کرنے کے لیے وہی 2 جینز، ’آئیوری‘ اور ’آپٹکس‘ استعمال کررہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ارتقا کا عمل بار بار انہی جینیاتی ’سوئچز‘ کو دباتا ہے تاکہ زہریلے نظر آنے والے پروں کے پیٹرن تیار کیے جاسکیں، جسے سائنسی زبان میں ’کنورجنٹ ایوولیوشن‘ کہا جاتا ہے
ماہرین کے مطابق اگرچہ مختلف انواع میں یکساں خصوصیات کا آزادانہ طور پر پیدا ہونا عام بات ہے، لیکن اس کے جینیاتی محرکات کا مطالعہ کرنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملین سال پرانی موسمی تبدیلی اور انسانی ارتقا کے درمیان اہم تعلق دریافت
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ارتقا حیران کن حد تک متوقع ہوسکتا ہے اور یہ جینیاتی چالیں ڈائنوسار کے دور سے استعمال ہورہی ہیں۔
اگر ارتقا ان طے شدہ راستوں پر چلتا ہے، تو سائنسدان مستقبل میں یہ پیشگوئی کرنے کے قابل ہوسکیں گے کہ مخصوص انواع موسمیاتی تبدیلیوں جیسے جدید خطرات کے خلاف خود کو کس طرح ڈھالیں گی۔












