سائنسدانوں نے چین سے 55 کروڑ سال پرانا سمندری اسپنج کا نایاب فوسل دریافت کیا ہے، جسے زمین پر ابتدائی جانوروں کی تاریخ میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت ارتقائی تاریخ میں موجود تقریباً 16 کروڑ سال کے خلا کو پُر کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین میں قدیم فوسلز کی دریافت، پیچیدہ زندگی کی تاریخ مزید پیچھے چلی گئی
تحقیق کے مطابق یہ فوسل دریائے یانگ زے کے قریب دریافت ہوا، جس کی ساخت غیر معمولی طور پر پیچیدہ اور مخروطی ہے، جبکہ اس کی سطح پر جالی دار نمونہ موجود ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 15 انچ بتائی جا رہی ہے، جو ابتدائی اسپنجز کے بارے میں موجود تصورات سے کہیں زیادہ بڑی اور پیچیدہ ہے۔

ماہرین نے ابتدائی طور پر اس نمونے کو دیگر سمندری جانداروں جیسے سی اسکرٹس، اینیمونز اور کورلز سے ملایا، تاہم تفصیلی تحقیق کے بعد اسے قدیم اسپنج قرار دیا گیا۔ اس تحقیق میں مختلف عالمی اداروں، بشمول یونیورسٹی آف کیمبرج اور نانجنگ انسٹی ٹیوٹ آف جیالوجی اینڈ پیلیونٹولوجی، نے حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں:نصف ملین ڈالر مالیت کا ڈائناسور لیدر بیگ توجہ کا مرکز
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ نظریہ مضبوط ہوتا ہے کہ ابتدائی اسپنجز نرم جسم کے حامل تھے اور ان میں معدنی ڈھانچہ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ فوسلز کی شکل میں محفوظ نہیں رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ارتقائی تاریخ کے ایک طویل عرصے تک ان کے شواہد دستیاب نہیں تھے۔
A chunk of bone discovered on a beach by a schoolgirl could be up to half a million years old, according to an evolutionary biologist. 🦴🦣
Read more here ➡️ https://t.co/hJxcxYPzsi pic.twitter.com/LuJqEDlxH7
— BBC Suffolk (@BBCSuffolk) April 10, 2026
ماہرین کے مطابق یہ نئی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتدائی حیاتیاتی ارتقا کے بارے میں موجود معلومات نامکمل ہو سکتی ہیں، کیونکہ بہت سے جاندار صرف اس لیے ریکارڈ میں شامل نہیں ہو سکے کہ وہ محفوظ نہیں رہ پائے، نہ کہ اس لیے کہ وہ موجود ہی نہیں تھے۔













