لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارا ماحول اس بات پر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ ہم کیا کھاتے ہیں لہٰذا لوگوں کو صحت مند انتخاب کی طرف راغب کرنے کے لیے بہتر لیبلنگ اور غذائی تعلیم انتہائی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے

بی بی سی کے مطابق جدید دور میں سپر مارکیٹوں میں ایسی غذائیں بڑی تعداد میں دستیاب ہیں جو زیادہ تر الٹرا پروسیسڈ فوڈز پر مشتمل ہوتی ہیں اور اکثر لوگوں کے لیے انہیں نظر انداز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ان ممالک میں جہاں اوسط وزن بڑھ رہا ہے اس رجحان کی ماہرین کی نظر میں بڑی وجہ اسی قسم کی خوراک کو قرار دیتے ہیں۔

اسٹڈیز سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ پیکنگ پر درج معلومات براہِ راست خریداری کے فیصلوں پر اثر ڈالتی ہیں۔ معمولی تبدیلیاں بھی صارفین کے رویے میں نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ بہتر غذائی آگاہی لوگوں کو صحت مند انتخاب میں مدد دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فوڈ ماحول خود موٹاپے کو بڑھانے والا نظام بن چکا ہے کیونکہ یہ منافع کے حصول کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور لوگوں کو غیر صحت مند انتخاب کی طرف دھکیلتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو سنہ 2050 تک دنیا کی نصف سے زیادہ بالغ آبادی موٹاپے کا شکار ہو سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے بغیر یہ مسئلہ مزید بڑھتا جائے گا۔

مزید پڑھیے: کونسی غذائیں جسم کی خوشبو کو پرکشش بناتی ہیں؟

امپیریل کالج لندن کے ماہرِ صحت فرانکو ساسی کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ خود انتخاب کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ماحول ان کے فیصلوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے کیونکہ مارکیٹنگ، دستیابی اور قیمت خریداری کے فیصلے طے کرتی ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لیے کئی ممالک نے فوڈ لیبلنگ میں اصلاحات کی ہیں۔ مثال کے طور پر چلی میں مصنوعات پر سیاہ انتباہی لیبل لگائے گئے جس کے بعد زیادہ کیلوریز والی مصنوعات کی خریداری میں تقریباً 23 فیصد کمی آئی۔

اسی طرح یورپ میں ’نیوٹری اسکور‘ نامی نظام استعمال ہو رہا ہے جس میں غذاؤں کو رنگوں اور حروف کے ذریعے صحت کے معیار کے مطابق درجہ بندی کیا جاتا ہے۔ اس نظام سے صارفین کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد مل رہی ہے اور کمپنیوں کو بھی اپنی مصنوعات میں تبدیلی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ انفرادی سطح پر رہنمائی اور غذائی مشاورت سے بھی لوگوں کی خوراک بہتر ہو سکتی ہے۔ ایک مطالعے میں دیکھا گیا کہ ذاتی رہنمائی حاصل کرنے والے افراد نے الٹرا پروسیسڈ فوڈز کا استعمال 25 فیصد تک کم کیا جس سے ان کے وزن اور صحت میں بہتری آئی۔

مزید پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل بہتری کے لیے صرف ایک نہیں بلکہ متعدد اقدامات ضروری ہیں کیونکہ خوراک کا موجودہ نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ بہتر پالیسیوں، تعلیم اور ماحول میں تبدیلی کے ذریعے ہی لوگوں کو صحت مند زندگی کی طرف مؤثر طور پر لایا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان پیشرفت: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان بننے والی کوآرڈینیشن کمیٹی کیوں ختم کردی گئی؟

نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان

وائٹیلٹی ٹی 20 بلاسٹ 2026: پاکستان کے ’ٹو ایلبو‘ مسٹری اسپنر عثمان طارق وارکشائر بیئرز میں شامل

ویڈیو

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کراٹے کامبیٹ: پاکستان کے شاہ زیب رند نے یوایف سی فائٹر آندرے ایول کو ناک آؤٹ کر دیا

ریاض میں کرکٹ کا بڑا میلہ اختتام پذیر

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی