وائٹ ہاؤس کے قریب سیکرٹ سروس اور مسلح شخص کے مابین جھڑپ،ایوان صدر لاک ڈاؤن

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے حرکت میں آ گئے اور کچھ دیر کے لیے وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعہ نائب صدر کے قافلے کے گزرنے کے فوراً بعد پیش آیا، جس میں ایک مسلح شخص اور سیکرٹ سروس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں نیشنل مال کے قریب امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں اور ایک مسلح شخص کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد پیر کی سہ پہر وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں ایک شخص کو گولی لگی جبکہ ایک راہگیر معمولی زخمی ہوا۔

امریکی سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے بتایا کہ یہ واقعہ نائب صدر جے ڈی وینس کے قافلے کے علاقے سے گزرنے کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر نائب صدر اس واقعے کا ہدف نہیں تھے، تاہم انہوں نے حالیہ دنوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملنے والی دھمکیوں سے اس واقعے کو جوڑنے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا، ’میں اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کروں گا۔ یہ صدر کے خلاف تھا یا نہیں، اس کا ابھی علم نہیں، لیکن تحقیقات میں حقیقت سامنے آ جائے گی۔‘

کوئن کے مطابق سیکرٹ سروس اہلکاروں نے ایک ’مشکوک شخص‘ کی نشاندہی کی جو بظاہر مسلح تھا۔ اہلکاروں کے قریب آنے پر وہ پیدل فرار ہو گیا، تاہم بعد ازاں اس نے ہتھیار نکال کر فائرنگ شروع کر دی۔ اس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا، تاہم اس کی حالت فوری طور پر معلوم نہ ہو سکی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کے دوران ایک کم عمر راہگیر بھی معمولی زخمی ہوا۔

دوسری جانب امریکی سیکرٹ سروس نے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن میں 15ویں اسٹریٹ اور انڈیپنڈنس ایونیو کے قریب پیش آنے والا یہ واقعہ اہلکاروں اور ایک مسلح شخص کے درمیان جھڑپ کا نتیجہ تھا۔ واقعے کے دوران وائٹ ہاؤس کو مختصر وقت کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’سیکرٹ سروس کے اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا ہے، تاہم اس کی حالت تاحال واضح نہیں۔‘

واشنگٹن ڈی سی پولیس کے مطابق ان کے اہلکار بھی موقع پر موجود ہیں اور علاقے کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ تحقیقات جاری رہنے کے باعث متعدد سڑکیں کئی گھنٹوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ’صورتحال قابو میں ہے، تاہم شہری علاقے سے دور رہیں کیونکہ سڑکیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں گی۔‘

حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی، جس کی وجہ گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران پیش آنے والا ایک الگ فائرنگ کا واقعہ تھا، جس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ