پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پمز اسپتال کے بچوں کے آئی سی یو میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے اور وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار تھے، تاہم اس معاملے میں حتمی فیصلہ فرانزک اور تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے اور حکومت کسی ایک فرد کے خلاف عجلت میں کارروائی کرنے کے بجائے پہلے مکمل رپورٹ کا انتظار کرنا چاہتی ہے تاکہ غفلت کے ذمہ داروں کا درست تعین ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:سانحات کے بعد معطلیاں، تحقیقات اور پھر خاموشی، پمز واقعے نے خامیاں بے نقاب کردیں

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد جس جس کی غفلت ثابت ہوئی، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ داروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے فوری بعد محدود وقت میں کسی ایک شخص کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے بہتر سمجھا گیا کہ فرانزک اور دیگر تحقیقات مکمل ہونے دی جائیں، تاکہ حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے۔

پمز کے بچوں کے آئی سی یو میں پیش آنے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور بیشتر بچوں کی موت دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے فرانزک ماہرین نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں

یہ بھی پڑھیں:پمز سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے صحت کے شعبے سے متعلق انتظامی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔ واقعے کے بعد اسپتال کے حفاظتی انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستوں اور عملے کی موجودگی سمیت مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ سانحے کی اصل وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین فرانزک شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔

اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں پاکستان میں بچوں اور ماؤں کی اموات کے سنگین اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچے ایک سے 5 سال کی عمر کے دوران جان سے محروم ہوجاتے ہیں، یعنی روزانہ تقریباً 1300 بچے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں بڑی تعداد ایسی اموات کی ہے جنہیں مؤثر طبی اقدامات کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ پاکستان میں صورتحال کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 4 لاکھ بچوں کی اموات ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور ان کا دعویٰ تھا کہ دنیا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان کا شمار سب سے زیادہ شرح رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وہ ان بچوں کی بات کررہے ہیں جن کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ ان کے بقول یہ محض اعدادوشمار نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کا دکھ ہے، اس لیے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے اور بنیادی صحت کے نظام میں مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پمز سانحہ: جاں بحق نومولود بچوں کی یاد میں شمعیں روشن

انہوں نے ملک میں دورانِ حمل ماؤں کی اموات کی شرح پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں حمل کے دوران یا اس سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے حالیہ سانحات اور بچوں کی اموات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کو کوئی انسان واپس نہیں لاسکتا۔ انہوں نے والدین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر دے اور ان کے بچوں کی شہادت کے صلے میں اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں ان واقعات کو صرف ایک سانحہ سمجھ کر آگے نہیں بڑھ جانا چاہیے بلکہ اسے اللہ کی طرف سے ایک امتحان سمجھتے ہوئے یہ دیکھنا ہوگا کہ آئندہ کسی بچے کی جان کیسے بچائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بیٹھ کر ایسے اقدامات کریں جن سے اگلا بچہ مرنے سے بچ سکے۔ ان کے بقول اگر نظام کی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو صرف افسوس اور تعزیت سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ پمز : تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل، ذمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، مصطفیٰ کمال

مصطفیٰ کمال نے پارلیمانی نگرانی کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں مسلسل شریک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ نکالا جاسکتا ہے اور ایک بھی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ایسا نہیں جسے انہوں نے جان بوجھ کر نظرانداز کیا ہو۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وہ پارلیمان اور متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سامنے تمام معلومات رکھنے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی معاملے کو چھپایا نہیں جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں اور ماؤں کی اموات کا مسئلہ محض کسی ایک اسپتال یا ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام کی کارکردگی کا سوال ہے، جس کے لیے حکومت، پارلیمان اور متعلقہ اداروں کو مل کر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے: شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ