متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے مطابق موجودہ شکل میں یہ بل ٹیلی کام شعبے کو درپیش رائٹ آف وے کے دیرینہ مسائل اور مطلوبہ پالیسی و ریگولیٹری اہداف کو مؤثر انداز میں حل نہیں کر پا رہا۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ سینیٹ میں رول 115 کے تحت بل واپس لینے کی اجازت طلب کریں گی۔

یاد رہے کہ یہ بل 15 جون 2026 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جبکہ قومی اسمبلی اسے جون میں 6 ترامیم کے ساتھ منظور کر چکی تھی۔

رائٹ آف وے کیا مسئلہ ہے؟

رائٹ آف وے سے مراد ٹیلی کام کمپنیوں کو فائبر آپٹک کیبلز، موبائل ٹاورز، سمال سیلز اور دیگر مواصلاتی انفراسٹرکچر نصب کرنے کے لیے کسی زمین، سڑک، گلی یا دیگر املاک سے گزرنے یا اسے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

پاکستان میں مختلف سرکاری اداروں، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نجی مالکان سے اجازت لینے کے پیچیدہ اور طویل طریقہ کار کو ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت نے اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے 1996 کے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ میں ترامیم تجویز کی تھیں۔

2G کے دور کا قانون، 5G کے دور میں تبدیلی کی ضرورت

حکومت کا مؤقف تھا کہ موجودہ ٹیلی کام قانون اس وقت بنایا گیا تھا جب ملک میں 2G ٹیکنالوجی کا دور تھا، جبکہ آج پاکستان کو 5G، فائبر آپٹک، جدید موبائل نیٹ ورکس اور دیگر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے مختلف قانونی تقاضوں کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ کے مطابق گزشتہ 2 برس کے دوران پاکستان میں ڈیٹا کے استعمال میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے متنازع پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن بل 2026 واپس آئی ٹی کمیٹی کو بھجوا دیا

ان کے مطابق حکومت نے فائبر کنکشنز کی تعداد تقریباً 3 ملین سے بڑھا کر 5 ملین سے زیادہ کر دی ہے، جبکہ آئندہ 3 برس میں کم از کم 10 ملین گھرانوں تک وائرڈ براڈ بینڈ پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

تاہم قانون میں مجوزہ تبدیلیوں نے نجی ملکیتی حقوق سے متعلق سوالات بھی پیدا کر دیے۔

نجی زمین پر کیا تجویز کیا گیا تھا؟

مجوزہ قانون میں رائٹ آف وے کے لیے نجی، مشترکہ ترقیاتی اور سرکاری املاک کے لیے الگ الگ طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔

نجی زمین کی صورت میں ٹیلی کام کمپنی کے لیے جائیداد کے مالک کی پیشگی تحریری رضامندی اور معاہدہ حاصل کرنا ضروری تھا۔

حکومت کی جانب سے اس معاملے پر یہ وضاحت بھی سامنے آئی تھی کہ قانون کسی شہری کی نجی زمین پر زبردستی ٹیلی کام تنصیبات لگانے یا قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا تھا کہ نجی زمین پر فائبر آپٹک کیبل بچھانے کے لیے مالک کی رضامندی ضروری ہوگی۔

پھر بل پر اعتراض کیوں ہوا؟

تنازع بنیادی طور پر رائٹ آف وے حاصل کرنے، اس کے استعمال اور قانونی اجازت ملنے کے بعد اس میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق شقوں پر پیدا ہوا۔

جون میں وزیراعظم شہباز شریف نے ان معاملات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی تھی۔

کمیٹی میں وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، سینیٹر شیری رحمان، احد چیمہ، اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ حکام و ماہرین شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے فروغ کے ساتھ شہریوں کے ملکیتی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائےگا، وزیر قانون

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن میں بھی ارکان نے نجی ملکیت کے حقوق اور قانون کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھائے تھے۔

مجوزہ قانون میں قانونی رائٹ آف وے میں رکاوٹ ڈالنے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز بھی شامل تھی، جس پر تحفظات سامنے آئے۔

ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے کیا طریقہ کار تھا؟

مجوزہ قانون میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کی سڑکوں، گلیوں، پارکس، یوٹیلیٹی کوریڈورز اور دیگر مشترکہ املاک کے لیے بھی مخصوص طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔

پراپرٹی مینیجر کو رائٹ آف وے کی درخواست پر 30 دن میں جواب دینا ہوتا۔ جواب نہ ملنے کی صورت میں معاملہ حکومت کو بھیجا جا سکتا تھا، جہاں فریقین کو سننے کے بعد 45 دن میں فیصلہ کرنے کی تجویز تھی۔

سرکاری املاک کے لیے بھی متعلقہ ادارے کو 30 دن میں فیصلہ کرنا تھا، جبکہ فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں معاملہ حکومتی سطح پر لے جانے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔

بل میں مشترکہ ترقیاتی اور سرکاری املاک پر زیرِ زمین رائٹ آف وے کے لیے فیس یا چارجز ختم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

حکومت کا مقصد ٹیلی کام کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کی تنصیب کے اخراجات اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنا تھا تاکہ فائبر نیٹ ورک کی توسیع تیز ہو سکے۔

مجوزہ قانون کے مطابق اگر کسی کمپنی کو قانونی طور پر رائٹ آف وے مل جاتا تو جائیداد کے مالکان، پراپرٹی مینیجرز یا متعلقہ سرکاری ادارے اس کے استعمال میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں ڈال سکتے تھے۔

دوسری جانب ٹیلی کام کمپنیوں کو بھی انفراسٹرکچر کی تنصیب کے دوران ہونے والے نقصان کی مرمت اور متاثرہ جگہ کو بحال کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

تنازع کی صورت میں نامزد ضلعی افسر کو 45 دن میں فیصلہ کرنا تھا، جبکہ اس فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر متعلقہ ٹریبونل میں اپیل کی جا سکتی تھی۔

حکومت نے اپنا مؤقف کیوں بدلا؟

حکومت نے ابتدا میں ان ترامیم کو ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، فائبر آپٹک نیٹ ورک اور 5G سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی توسیع کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔

تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی اور انتظامی سوالات کے بعد حکومت نے مجوزہ قانون کا دوبارہ جائزہ لیا۔

وزارتِ آئی ٹی کے مطابق مسئلہ صرف نجی ملکیت تک محدود نہیں، بلکہ وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے اختیارات اور مختلف اقسام کی املاک پر رائٹ آف وے کے دائرہ اختیار سے بھی متعلق ہے۔

17 اگست کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی رائٹ آف وے سے متعلق قانونی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اب حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ شکل میں بل مطلوبہ پالیسی اور ریگولیٹری نتائج حاصل نہیں کر رہا، اسی لیے اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بل واپس ہونے کے بعد کیا ہوگا؟

بل واپس لینے سے پاکستان میں رائٹ آف وے کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ فائبر آپٹک، موبائل نیٹ ورکس، سمال سیلز اور دیگر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کے لیے رائٹ آف وے اب بھی ایک اہم مسئلہ رہے گا۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ ایسا یکساں اور واضح نظام کیسے بنایا جائے جس سے ٹیلی کام کمپنیوں کو انفراسٹرکچر کی تنصیب میں غیر ضروری تاخیر اور اضافی اخراجات کا سامنا نہ ہو، جبکہ شہریوں کے نجی ملکیتی حقوق بھی محفوظ رہیں۔

یہ بھی پڑھیے ٹیلی کام ترمیمی بل 2026: ’رائٹ آف وے‘ پر وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ پیش

حکومت کے موجودہ فیصلے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ رائٹ آف وے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے موجودہ بل کے بجائے نئے قانونی یا ریگولیٹری طریقہ کار پر کام کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے بل واپس لینے کے بعد رائٹ آف وے کے مسائل کے حل کے لیے نئے قانونی یا ریگولیٹری طریقہ کار کی راہ ہموار ہو گئی ہے، تاہم حکومت نے ابھی نئے فریم ورک کی حتمی شکل یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

اسٹاک مارکیٹ میں زبردست خریداری، انڈیکس 177,833 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ