چند دن پہلے پشاور کے ایک کلینک میں ہیئر ٹرانسپلانٹ کے دوران لائیو موسیقی سنانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی، جس پر کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید بھی ہو رہی ہے، مگر اس کلینک کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ طویل سرجری کے دوران مریضوں کے سکون کے لیے 2018 سے موسیقی کا استعمال کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر حبیب اللہ اور ان کی اہلیہ کا پشاور کے پوش علاقے یونیورسٹی ٹاؤن کے ابدرہ روڈ پر کلینک ہے، جو مصنوعی بال لگوانے کے لیے کافی مقبول ہے۔
ڈاکٹر حبیب کے کلینک کی ایک حالیہ ویڈیو کافی وائرل ہوئی، جس میں پشاور پولیس کے ایک افسر کی مصنوعی بال لگوانے کے دوران ایک مقامی گلوکار ہارمونیم بجا کر گا رہا ہے۔ اس پر پولیس افسر اور ڈاکٹر دونوں کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ پولیس افسر کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، جبکہ بعض کا خیال تھا کہ سرجری کے دوران آپریشن تھیٹر (او ٹی) میں موسیقی یا غیر متعلقہ افراد کے آنے سے انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر حبیب کا کہنا ہے کہ گلوکار کو مکمل تیاری کے ساتھ او ٹی میں لایا جاتا ہے۔
’جب ہم گلوکار کو او ٹی میں لاتے ہیں تو انہیں اسکرَب پہنایا جاتا ہے اور دیگر تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔‘
ڈاکٹر حبیب نے ہیئر ٹرانسپلانٹ یا مصنوعی بال لگوانے کے طریقۂ کار پر بھی بات کی اور بتایا کہ یہ کوئی بہت زیادہ خطرناک آپریشن نہیں ہوتا۔ اس دوران میں مریض کو مکمل طور پر بے ہوش بھی نہیں کیا جاتا بلکہ مریض ہوش میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپلانٹ کا عمل طویل ہوتا ہے اور آٹھ سے دس گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔ اس دوران مریض تنگ اور بور ہو جاتے ہیں، اس لیے ان کی توجہ ہٹانے اور ذہنی سکون کے لیے موسیقی کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار لائیو موسیقی بھی ہوتی ہے، جبکہ معمول کے مطابق بڑی اسکرین کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سرجری کے دوران موسیقی کا خیال کب اور کیسے آیا؟
ڈاکٹر حبیب کے مطابق وہ 2011 سے ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینک چلا رہے ہیں اور ان کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ او ٹی میں موسیقی کا آغاز انہوں نے 2018 میں کیا۔ ایک موسیقار کے شاگرد نے اپنے استاد کی سرجری کے دوران لائیو رباب بجانے کی درخواست کی تاکہ ان کے استاد کو اس طویل آپریشن کے دوران سکون اور راحت مل سکے، جس کی انہوں نے اجازت دی۔
ڈاکٹر حبیب بتاتے ہیں کہ پشاور کے مشہور فنکار شاہد مالنگ نے اپنے استاد کے لیے سرجری کے دوران رباب بجایا اور گانا گایا، جس سے مریض کافی مطمئن اور پُرسکون رہے اور بالکل بھی بور نہیں ہوئے۔ ’اس کے بعد مجھے بھی خیال آیا کہ او ٹی میں موسیقی کا بندوبست کروں۔ اس کے لیے بڑی اسکرین لگا دی گئی اور کبھی کبھار مریضوں کی فرمائش پر گلوکاروں کو بھی بلانا شروع کیا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ پہلے مریضوں سے باقاعدہ ان کی رائے لی جاتی ہے اور مریض بھی اس پر خوش ہوتے ہیں۔
’اس دن کے بعد موسیقی ہماری سرجری کا حصہ بن گئی ہے۔ مریضوں کو ان کی پسند کی فلمیں یا گانے سنائے جاتے ہیں اور وہ سرجری کے دوران سکون سے فلم دیکھتے ہیں، جس سے سرجری کی پریشانی کم ہو جاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ لائیو موسیقی ہر روز نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔ لائیو موسیقی کے لیے گلوکار ایک دن کے 25 سے 30 ہزار روپے معاوضہ طلب کرتے ہیں، جو روزانہ ممکن نہیں۔
مزید اس ویڈیو رپورٹ میں…












