بھارتی ریاست تمل ناڈو میں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے نے اپنی جماعت کے ساتھ شاندار انتخابی کامیابی حاصل کر لی ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے انہیں اب بھی مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں۔ سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود اصل چیلنج اب سیاسی جوڑ توڑ کا ہے۔
تمل ناڈو کی سیاست میں فلمی اداکار وجے نے اپنی جماعت تملگا ویتری کژگم (TVK) کے ساتھ ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے خود کو ریاست کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر منوا لیا ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے انہیں اب بھی عددی اکثریت درکار ہے۔
234 رکنی اسمبلی میں ٹی وی کے 107 نشستوں کے ساتھ اکثریت کے لیے درکار ہدف سے صرف 11 نشستیں کم ہیں، جس کے باعث اب تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ وہ یہ کمی کیسے پوری کریں گے اور آیا ریاست میں معلق اسمبلی کی صورتحال پیدا ہوگی یا نہیں۔
سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناتے امکان ہے کہ گورنر وجے کو حکومت بنانے کی دعوت دیں، چاہے ابتدا میں انہیں اقلیتی حکومت ہی کیوں نہ قائم کرنا پڑے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں بیرونی حمایت حاصل کرنے کا پورا یقین ہے۔
ٹی وی کے رہنماؤں کے مطابق، دراوڑ منیتر کژگم (DMK) کے ساتھ اتحاد میں شامل جماعتوں جن میں کانگریس (5 نشستیں)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (CPIM) اور ویدوتھلائی چروتھائیگل کچی (VCK) شامل ہیں سے حمایت ملنے کا امکان موجود ہے، جن میں سے ہر ایک کے پاس 2، 2نشستیں ہیں۔
پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے 2006 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی ڈی ایم کے نے اقلیتی حکومت بنا کر اتحادی حمایت کے ذریعے اپنی مدت مکمل کی تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس صورتحال سے ڈی ایم کے اتحاد میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں، خاص طور پر کانگریس کے حوالے سے، جس نے انتخابات سے قبل ٹی وی کے کے ساتھ ممکنہ اتحاد پر غور کیا تھا اور اسی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے ڈی ایم کے سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔
ٹی وی کے کے لیے ایک اور ممکنہ راستہ پٹالی مکل کچی (PMK) کی حمایت ہو سکتی ہے، جس کے پاس پانچ نشستیں ہیں۔ تاہم آل انڈیا انا دراوڑ منیتر کژگم (AIADMK) سے اتحاد کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے ساتھ اتحاد میں ہے، جسے وجے اپنے نظریاتی مخالف کے طور پر بیان کر چکے ہیں۔
ٹی وی کے کے نوجوان امیدوار ریونتھ چرن، جو مدوراویال سے کامیابی کے بعد ریاست کے کم عمر ترین ارکان اسمبلی میں شامل ہوں گے، نے حکومت سازی کے حوالے سے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’عدم استحکام کا کوئی خطرہ نہیں، ہم حکومت بنائیں گے‘، جبکہ یہ بھی واضح کیا کہ اتحادیوں یا بیرونی حمایت سے متعلق حتمی فیصلے پارٹی قیادت کرے گی اور جلد اس حوالے سے واضح اعلان متوقع ہے۔
وجے کی تاریخی انٹری
اس سیاسی صورتحال کا پس منظر وجے کی غیر معمولی انتخابی کارکردگی ہے، جنہوں نے اپنی جماعت کے ساتھ پہلی ہی بار انتخاب لڑتے ہوئے سب سے بڑی جماعت کا اعزاز حاصل کیا۔ وجے خود پیرمبور اور تریچی ایسٹ دونوں حلقوں سے کامیاب ہوئے، جبکہ ان کی جماعت نے چنئی میں بھی زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے 16 میں سے 14 نشستیں جیت لیں۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے ڈی ایم کے کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
انتخابی مہم کے دوران وجے نے مقابلے کو براہ راست ڈی ایم کے کے خلاف رکھا اور کسی بھی اتحاد کے بجائے تنہا میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا، جو بظاہر کامیاب ثابت ہوا۔ تاہم اب اصل امتحان حکومت سازی کے لیے درکار نمبرز پورے کرنے کا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی حلف برداری 7 مئی تک متوقع ہے، جبکہ پس پردہ رابطے اور مذاکرات تیزی سے جاری ہیں تاکہ ٹی وی کے اکثریت کا ہدف حاصل کر سکے۔














