ایک متنازعہ ہمالیائی درّے کے ذریعے مذہبی یاترا بحال کرنے کے بھارتی اعلان کے بعد نیپال اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
کٹھمنڈو کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز بھارت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اس فیصلے پر تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے ہمسایہ ممالک سے پانی اور سرحدی تنازعات، ایک غیر مستحکم حکمت عملی
نیپال، بھارت اور تبت کے سنگم پر واقع لیپولیکھ درہ نیپال کے مطابق 1816 کے معاہدۂ سگولی کی بنیاد پر اس کی حدود میں شامل ہے۔
یہ معاہدہ نیپال نے برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں کے ساتھ اپنی مغربی سرحد کے تعین کے لیے کیا تھا۔
Nepal Sends Diplomatic Notes to India and China Over Lipulekh Route Dispute
Nepal formally protests to India and China regarding the reopening of the Lipulekh Pass for the Kailash Mansarovar Yatra, citing sovereignty under the Sugauli Treaty
Read Full News:… pic.twitter.com/NjKQftZ2Za
— Bay of Bengal Post (@bayofbengalpost) May 4, 2026
اپنی شکایت میں وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالا پانی کے علاقے نیپال کا حصہ ہیں اور اس مؤقف پر حکومت واضح اور مضبوطی سے قائم ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیپولیکھ درہ 1954 سے ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں، جینوں اور بون مذہب کے ماننے والوں کے لیے کوہِ کیلاش اور جھیل مانسروور (تبت) کی یاترا کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایک ماہ میں دوسرا وزیر مستعفی، نیپال کی حکومت کو دھچکا
نیپالی ترجمان کے مطابق یہ کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے۔ بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس طرح کے دعوے نہ تو جائز ہیں اور نہ ہی تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی ہیں۔
’اس نوعیت کے یکطرفہ اور مصنوعی علاقائی دعوؤں میں توسیع ناقابلِ قبول ہے۔‘

یہ تنازع اس وقت دوبارہ بھڑکا جب بھارت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے چین کے ساتھ لیپولیکھ کے راستے یاترا دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو 2020 میں کووڈ 19 وبا کے باعث معطل کر دی گئی تھی۔
منصوبے کے تحت 500 ہندو یاتری بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے راستے لیپولیکھ درہ عبور کر کے چین میں داخل ہوں گے، جبکہ دیگر یاتری شمال مشرقی ریاست سکم کے راستے سفر کریں گے۔












