نیپال کے وزیر داخلہ نے اپنی سرمایہ کاری اور دیگر کاروباری معاملات کے حوالے سے اٹھنےوالے سوالات کے پس منظر میں استعفیٰ دیدیا ہے۔
وہ ملک کی ایک ماہ قبل تشکیل کردہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والے دوسرے وزیر ہیں، انہوں نے 27 مارچ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
سودن گرونگ نے بدھ کے روز اپنے عہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا اور کہا کہ اٹھائے گئے سوالات کی تحقیقات ہونی چاہیے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپالی ریپر بالن شاہ وزیر اعظم منتخب، عہدے کا حلف اٹھا لیا
38 سالہ گرونگ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ وہ آج سے وزیر داخلہ کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔
’میرے لیے اخلاقیات عہدے سے بڑھ کر ہیں، اور عوامی اعتماد سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔۔۔ عوامی زندگی شفاف ہونی چاہیے اور قیادت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔‘
وزیراعظم کے پریس مشیر دیپا دہال نے گرونگ کے استعفے کی وصولی کی تصدیق کی۔
Nepal’s under-fire home minister Sudan Gurung resigns https://t.co/1IzhZWrC1Q
— The Straits Times (@straits_times) April 22, 2026
انہوں نے بتایا کہ نئے وزیر کی تقرری تک وزیراعظم بلندر شاہ وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالیں گے۔
گرونگ اس وقت خبروں میں آئے جب انہوں نے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور ان کے وزیر داخلہ رمیش لیکھک کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔
یہ کارروائی گزشتہ ستمبر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں ان کے کردار کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: نیپال کے سرحدی شہر برگنج میں کشیدگی، مسجد کی بے حرمتی کے بعد کرفیو نافذ
ریپر سے سیاستدان بننے والے 35 سالہ بلندر شاہ گزشتہ ماہ کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی 3 سالہ جماعت راشٹریہ سواتنترا پارٹی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم بنے تھے۔
اس جماعت نے بدعنوانی کے خاتمے، بہتر طرز حکمرانی اور شفافیت کے وعدے کیے تھے۔
کٹھمنڈو کے میئر کے طور پر اپنے 3 سالہ دور میں بلندر شاہ نے اصلاحات کے باعث خاصی مقبولیت حاصل کی۔
مزید پڑھیں: نیپال میں لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسلنے والا طیارہ بڑی تباہی سے بچ گیا، 55 مسافر محفوظ
اسی ماہ کے آغاز میں حکومت نے ایک سابق سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن قائم کیا تھا، جس کا مقصد سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی تحقیقات کرنا ہے۔
بلندر شاہ نے رواں ماہ کے اوائل میں اپنے وزیر محنت کو بھی برطرف کر دیا تھا، جب ان پر الزام لگا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو ہیلتھ انشورنس بورڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کروانے کے لیے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں نیپال اس وقت 180 ممالک میں سے 109ویں نمبر پر ہے۔











