محسن داوڑ کے حالیہ بیانیے میں ’افغان سینٹرک ڈس انفارمیشن‘ کی جھلک موجود ہے، جس میں کالعدم تنظیم ’فتنہ الخوارج‘ کی افغان سرزمین پر موجودگی سے متعلق اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 36ویں اور 37ویں رپورٹس کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کے بیانات پاکستان میں دہشتگردی کے متاثرین کی قربانیوں کو کم کرنے کے مترادف ہیں، جہاں 94 ہزار سے زائد جانوں اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا گیا۔
مزید پڑھیں: ملک میں دہشتگردی سے متعلق عمران خان کی ٹوئٹ پر محسن داوڑ کا جوابی وار
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں آتی ہیں۔ جب کوئی ریاست اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ’نااہل یا غیر مؤثر‘ ہو تو بین الاقوامی قانون کے تحت ہدفی کارروائیاں جائز سمجھی جاتی ہیں۔
محسن داوڑ کے اس تصور کو مسترد کیا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی ’اسٹیجڈ‘ہے۔ کہا گیا ہے کہ 94 ہزار سے زائد ہلاکتیں، جن میں سیکیورٹی فورسز اور شہری دونوں شامل ہیں، اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کو عالمی سطح پر انسدادِ دہشتگردی کی کامیاب مثالوں کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں افغانستان میں کالعدم گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض سیاسی بیانات ان رپورٹس کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں جو قومی سلامتی کے خلاف ہیں۔
ردعمل میں کہا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی ضروری اقدام ہے، کیونکہ یہ علاقے بیرونی حمایت یافتہ گروہوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ مؤقف کے مطابق انسدادِ دہشتگردی آپریشنز ’کلئیر، ہولڈ، بلڈ‘ حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
بیان میں ’پروجیکٹ طالبان‘ کو غلط اصطلاح قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کی موجودہ لہر میں بیرونی عناصر اور مبینہ سرحد پار نیٹ ورکس کا کردار موجود ہے۔ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے دوحا معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔
ردعمل میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات ’گرے زون وار فیئر پروپیگنڈا‘ کا حصہ ہیں۔ سیکیورٹی ادارے سخت قواعدِ ضابطہ کے تحت صرف دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیرستان میں محسن داوڑ کی بلٹ پروف گاڑی پر فائرنگ
قومی سلامتی وفاقی دائرہ اختیار ہے، اور صوبائی سطح پر اقدامات نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ دہشتگردی جیسے بین الاقوامی خطرے کے مقابلے کے لیے ریاستی اداروں کا مشترکہ کردار ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں نے زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاسی بیانیوں کے بجائے اتحاد اور ریاستی اداروں کی کوششوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے، تاکہ ملک میں دہشتگردی کے خطرات کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکے۔














