حکومت نے آٹو پالیسی 2031-2026 کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، مرمت و اپ گریڈیشن اور دوبارہ برآمد کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور آٹو موبائل شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
مزید پڑھیں: شنگھائی: صدر آصف علی زرداری کی معروف چینی آٹو موبائل کمپنی چیری ہولڈنگ کے وفد سے ملاقات
مجوزہ منصوبے کے مطابق دبئی کے ماڈل کی طرز پر ایک نظام قائم کیا جائے گا جس کے تحت لائسنس یافتہ کمپنیاں بیرونِ ملک سے استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کر کے مقامی سطح پر مرمت اور اپ گریڈیشن کے بعد انہیں دوبارہ عالمی منڈیوں میں برآمد کریں گی۔ ان گاڑیوں کی مقامی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کو سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کی حمایت کی جا رہی ہے۔ پالیسی پر عالمی مالیاتی اداروں سے مشاورت بھی جاری ہے، جس کے بعد اسے وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی نئی آٹو ٹیرف دھمکی، یورپی گاڑیوں کے حصص گرگئے
اس منصوبے کے تحت صرف رجسٹرڈ کمپنیاں ہی کام کر سکیں گی، جنہیں مالی اور تکنیکی صلاحیت ثابت کرنا ہوگی اور واضح کاروباری منصوبہ بھی دینا ہوگا۔
مزید یہ کہ درآمد کی گئی گاڑیوں کو مخصوص مدت میں دوبارہ برآمد کرنا لازمی ہوگا، بصورت دیگر قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔














