پاکستان میں 20 فیصد سوشل میڈیا اکاؤنٹس جعلی، فراڈ، ہراسانی اور جرائم میں استعمال ہونے کا انکشاف

بدھ 6 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی حکام نے بتایا کہ صحافیوں کے خلاف درج 13 ایف آئی آرز میں سے 11 ابتدائی تحقیقات کے بعد خارج کر دی گئی ہیں، جبکہ عام شہریوں سے متعلق سائبر کرائم کے 689 مقدمات درج ہوئے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر جان محمد کے علاوہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد پولیس کے نمائندوں اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے: این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل، 4 افسران کے استعفے منظور

سینیٹر سید وقار مہدی کے سوال پر بریفنگ دی گئی کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون پیکا 2025 میں حالیہ ترامیم کے بعد کوئی بھی پولیس اسٹیشن سائبر کرائم کی ایف آئی آر درج کرنے کا مجاز نہیں۔ ایسے تمام کیسز این سی سی آئی اے کو بھیجے جاتے ہیں۔ تاہم اگر آن لائن سرگرمی کسی روایتی جرم کا باعث بنے تو دو الگ ایف آئی آرز درج کی جا سکتی ہیں، ایک سائبر پہلو کے لیے این سی سی آئی اے اور دوسری متعلقہ پولیس کے پاس۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب اور سندھ میں این سی سی آئی اے کی طرز پر صوبائی ادارے بنانے کی تجاویز زیر غور ہیں تاکہ بوجھ تقسیم کیا جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ پیکا ایکٹ کے تحت 29 جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے اور پنجاب میں 2020 سے 2025 کے دوران 370 سائبر کرائم مقدمات درج ہوئے۔

بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 14 کروڑ افراد سائبر اسپیس میں سرگرم ہیں جبکہ سوشل میڈیا کے لگ بھگ 20 فیصد اکاؤنٹس جعلی ہیں، جو فراڈ، ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے جرائم میں استعمال ہوتے ہیں۔

پنجاب پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے مطابق صوبے میں تقریباً 500 آن لائن جرائم کے کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: منظم گینگ بن کر بدعنوانی کرنے کے الزامات میں این سی سی آئی اے افسران کی گرفتاریاں، انہوں نے کیا کرپشن کی؟

سندھ پولیس نے بتایا کہ صوبے میں سائبر کرائم کے 55 مقدمات درج ہوئے جن میں ایک صحافی کا کیس بھی شامل ہے، جبکہ 33 کیسز این سی سی آئی اے کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق 14 ستمبر 2025 کے بعد سائبر کرائم کی کوئی نئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اور تمام کیسز این سی سی آئی اے کو بھیجے جا رہے ہیں۔

این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ ادارے کو گزشتہ ایک سال میں تقریباً 1 لاکھ 54 ہزار شکایات موصول ہوئیں۔

اجلاس کے اختتام پر سینیٹر سرمد علی نے این سی سی آئی اے کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ صوبائی پولیس اور عدالتیں تمام متعلقہ کیسز ترجیحی بنیادوں پر این سی سی آئی اے کو منتقل کریں اور آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹس پیش کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘