حکومت کا پبلک پی تھری اے کو پلاننگ ڈویژن سے نکال کر نجکاری ڈویژن کے ماتحت کرنے کا فیصلہ

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کو پلاننگ ڈویژن سے نکال کر نجکاری ڈویژن کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں بہتر ہم آہنگی، ادارہ جاتی ربط اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اقتصادی امور کے وزیر احد چیمہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں پی تھری اے قانون میں مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں شفافیت، نگرانی اور کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کی مکمل نجکاری، عارف حبیب کنسورشیم 100 فیصد شیئرز کا مالک بن گیا

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے احد چیمہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد متعلقہ فریقین سے مشاورت اور جامع اصلاحات کی تیاری ہے تاکہ منصوبوں پر مؤثر نگرانی اور شفاف عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ اصلاحات کے تحت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو مزید مضبوط کیا جائے گا جبکہ پی تھری اے منصوبوں کے نفاذ اور عملدرآمد پر خصوصی توجہ دے گی۔ اس کے علاوہ منظم پراجیکٹ پائپ لائن اور بڈنگ نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو سکے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ بزنس کونسلز اور چیمبرز آف کامرس کو بھی منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کیا جائے گا جبکہ قابل عمل منصوبوں کی تیاری اور تکمیل کے لیے ایک خصوصی پراجیکٹ ڈویلپمنٹ فیسلٹی قائم کرنے کی تجویز ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سینیٹ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس: پی ایم ڈی سی اور پی آئی اے کی نجکاری کا تفصیلی جائزہ

اجلاس میں زمین، بجلی اور دیگر سہولتوں تک رسائی آسان بنانے، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور سرمایہ کار دوست فریم ورک تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پی تھری اے اس وقت 600 ارب روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں ایم 6 کے مختلف سیکشنز، کھاریاں سیالکوٹ اور کھاریاں راولپنڈی موٹرویز سمیت متعدد اہم منصوبے شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پمز اسپتال:4 دہائیوں کی طبی خدمات، اربوں روپے کا بجٹ اور نئے چیلنجز

مولانا اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو استعمال کررہے ہیں، اپوزیشن اتحاد نہیں چل پائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کیا جائے، میاں داؤد ایڈووکیٹ

آزاد کشمیر کے وزیراعظم نامزد ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟

ویڈیو

مولانا اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو استعمال کررہے ہیں، اپوزیشن اتحاد نہیں چل پائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

کالم / تجزیہ

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ