سینیئر وکیل لاہور ہائیکورٹ میاں داؤد نے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ ریکارڈ سمیت آئینی عدالت میں چیلنج کرے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے میاں داؤد نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ نہیں لکھا تھا کہ حکومت کا کون سا آفیشل اس حوالے سے حکم صادر کرے گا، اس لیے پی ٹی آئی کی توہینِ عدالت کی درخواست میں وزیرِ اعظم، وزیرِ قانون اور وزیرِ اطلاعات کو نامزد کرنا درست نہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہوگیا، ثبوت پیش کریں گے، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا، اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو شفٹ کرنے کے حوالے سے ایسے واقعات درپیش آ جائیں جو کنٹرول میں نہ ہوں تو حکومت یہ سہولت واپس لے سکتی ہے۔ اسی آرڈر کو دیکھتے ہوئے شاید حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے دائر درخواستیں غیر آئینی طور پر سنی گئیں اور یہ درخواستیں ناقابلِ سماعت تھیں۔
میاں داؤد نے کہاکہ کسی بھی قیدی کا نجی اسپتال میں علاج اس وقت ہو سکتا ہے جب ملک کے تمام سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز یہ لکھ کر دے دیں کہ یہ علاج سرکاری اسپتال میں ممکن نہیں۔ تب قیدی کو نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے اور حکومت پابند ہے کہ وہ قیدی کا علاج خود کروائے یا قیدی خود اخراجات اٹھائے۔
انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ یہ نہیں کہہ سکتی کہ کسی قیدی کا علاج نجی اسپتال میں کروایا جائے جب تک میڈیکل بورڈ یا جیل حکام اس بات کی نشاندہی نہ کر لیں کہ سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہیں۔ اسی فیصلے کو دیکھتے ہوئے دو قیدیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کی ہیں کہ ان کا علاج بھی نجی اسپتال میں کروایا جائے۔ اگر عمران خان کو یہ سہولت مل سکتی ہے تو باقی قیدیوں کو کیوں نہیں مل سکتی؟
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیئر وکیل میاں داؤد کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ تمام ریکارڈ اکٹھا کرکے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر کرے کہ آیا یہ اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم کی اپیل اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ التوا ہے۔ اب عدالت کب اس اپیل کی سماعت کرے گی؟
مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ: سپریم کورٹ نے توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا مسترد کردی
انہوں نے کہاکہ عمران خان کے کیس میں ایک غریب آدمی کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ عمران خان کو بھی معلوم ہے کہ ان پر حملہ کرنے والا ملزم یہ نہیں ہے۔











