پمز اسپتال:4 دہائیوں کی طبی خدمات، اربوں روپے کا بجٹ اور نئے چیلنجز

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد گزشتہ 4 دہائیوں سے دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف علاقوں کے مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے والا ایک اہم سرکاری تدریسی و طبی ادارہ اور اسپتال ہے۔ 1960 کی دہائی میں جس منصوبے کا تصور پیش کیا گیا تھا، وہ 1985 میں باقاعدہ طبی خدمات کے آغاز کے بعد آج ایک وسیع طبی کمپلیکس کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

1960 کی دہائی میں منصوبے کا آغاز

پمز کے قیام کا ابتدائی تصور 1960 کی دہائی کے اوائل میں سامنے آیا۔ دارالحکومت اسلام آباد میں ایسے بڑے اسپتال کی ضرورت محسوس کی گئی تھی جو اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے شمالی علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی پیچیدہ اور خصوصی طبی سہولیات فراہم کر سکے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق منصوبے کی اصولی منظوری 1961 میں دی گئی، جبکہ 1965 میں اس کا ابتدائی تصوراتی ڈیزائن تیار ہوا۔ بعد ازاں 1970 میں موجودہ مقام، سیکٹر جی-8/3، کو اسپتال کے قیام کے لیے منتخب کیا گیا۔

1980 میں منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہوا اور 1985 میں مکمل ہونے کے بعد پمز نے باقاعدہ طبی خدمات کا آغاز کیا۔ ابتدائی منصوبے میں 592 بستروں کا اسپتال شامل تھا، تاہم وقت کے ساتھ مختلف خصوصی مراکز کے قیام کے نتیجے میں پمز کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا۔

1985 میں طبی خدمات کا آغاز

اسلام آباد اسپتال کی آؤٹ پیشنٹ سروسز 18 دسمبر 1985 کو شروع ہوئیں، جبکہ داخل مریضان اور حادثات و ایمرجنسی کی سہولیات 1986 میں فعال ہوئیں۔ بعد ازاں پمز ملک کے بڑے قومی ریفرل مراکز میں شامل ہوگیا۔

بچوں کے اسپتال، کارڈیک سینٹر، مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر، برن سینٹر اور دیگر خصوصی شعبوں کے قیام سے پمز ایک مکمل طبی کمپلیکس کی صورت اختیار کرتا گیا۔

پمز کے قیام کا ایک اہم مقصد طبی علاج کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی تربیت اور طبی تحقیق کو فروغ دینا بھی تھا۔ مختلف شعبہ جات میں پوسٹ گریجویٹ تربیت اور تدریسی سرگرمیوں نے اسے ملک کے اہم طبی تعلیمی مراکز میں شامل کیا۔

وقت کے ساتھ پمز میں مریضوں کی تعداد اور طبی شعبوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ادارے کو زیادہ وسائل، جدید مشینری، بہتر انفراسٹرکچر اور اضافی عملے کی ضرورت بھی بڑھتی گئی۔

بجٹ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ 3 سال کے دوران پمز اسپتال کو مجموعی طور پر 22 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا۔ اربوں روپے کی یہ رقم پمز میں طبی خدمات، ملازمین کے اخراجات، آپریشنل ضروریات، مرمت و بحالی اور دیگر انتظامی و طبی امور پر خرچ کی گئی۔

گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نے پمز اسپتال کے لیے 6 ارب 84 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا تھا، تاہم پمز انتظامیہ نے مختص رقم کے مقابلے میں 7 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پمز انتظامیہ کے اخراجات مختص بجٹ سے تقریباً 67 کروڑ روپے زیادہ رہے۔

رواں مالی سال کے لیے وفاقی حکومت نے پمز اسپتال کے لیے 7 ارب 63 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم کا مقصد اسپتال کے معمول کے انتظامی و طبی اخراجات کے ساتھ مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا اور ادارے کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

پمز میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پرانے انفراسٹرکچر کے باعث بجٹ کا ایک اہم حصہ عمارتوں، طبی آلات اور دیگر سہولیات کی مرمت و بحالی پر بھی خرچ ہوتا ہے۔

وفاقی حکومت نے پمز اسپتال کو ریپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں گزشتہ عرصے کے دوران 50 کروڑ روپے فراہم کیے۔ رواں مالی سال میں اسی مد میں مزید 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم اس لیے بھی اہم ہے کہ پمز کا بنیادی انفراسٹرکچر کئی دہائیوں پرانا ہے اور بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ کے باعث عمارتوں، بجلی، پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی مسلسل دیکھ بھال ضروری ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) سینٹر کے لیے ایک ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 85 کروڑ 56 لاکھ روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

پمز کے لیے مسلسل بڑھتے بجٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت اس بڑے طبی ادارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے خطیر وسائل مختص کر رہی ہے۔ تاہم دوسری جانب مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، مہنگے طبی آلات، ادویات، ملازمین کی تنخواہوں و الاؤنسز اور پرانے انفراسٹرکچر کی مرمت جیسے عوامل اسپتال کے اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔

پمز اسپتال نے 1985 میں اپنی طبی خدمات کے آغاز سے اب تک 4 دہائیوں سے زائد عرصے میں ملک کے لاکھوں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی ہیں۔ اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی یہ اسپتال ایک بڑے ریفرل مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

پمز کی تاریخ اس امر کی عکاس ہے کہ 1960 کی دہائی میں ایک بڑے اسپتال کے منصوبے سے شروع ہونے والا سفر وقت کے ساتھ ایک وسیع طبی، تدریسی اور تحقیقی ادارے میں تبدیل ہوگیا۔ آج اس ادارے کو جدید طبی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے نہ صرف سالانہ اربوں روپے کا بجٹ درکار ہے بلکہ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، جدید طبی آلات، بہتر انتظامی نظام اور مریضوں کے لیے معیاری سہولیات کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔

وفاقی بجٹ میں پمز کے لیے مسلسل بڑھتی ہوئی رقوم، بالخصوص مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر، ریپیئر اینڈ مینٹیننس اور آپریشنل اخراجات کے لیے مختص فنڈز، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پمز آج بھی وفاقی دارالحکومت اور ملک کے وسیع خطے کے لیے ایک بنیادی اور ناگزیر طبی ادارہ ہے۔

پمز اسپتال صرف روزمرہ طبی خدمات کے باعث ہی نہیں بلکہ ملک کے اہم قومی، سیاسی اور ہنگامی واقعات کے دوران اپنی طبی خدمات کے حوالے سے بھی نمایاں رہا ہے۔ اسلام آباد میں واقع ہونے کے باعث مختلف بڑے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طبی امداد اور علاج فراہم کرنے میں پمز کا کردار اہم رہا ہے۔

دہشتگردی کے واقعات اور ہنگامی حالات

اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں ہونے والے مختلف دہشتگرد حملوں، فائرنگ کے واقعات اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران زخمیوں کو پمز منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ اسپتال کی ایمرجنسی نے ایسے مواقع پر بڑی تعداد میں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی۔

لال مسجد آپریشن

2007 میں اسلام آباد میں لال مسجد کے بحران اور بعد ازاں ہونے والے آپریشن کے دوران پمز کا شمار ان اہم طبی مراکز میں ہوا جہاں زخمی سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر متاثرین کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس واقعے نے پمز کی ایمرجنسی اور ٹراما کیئر کی اہمیت کو قومی سطح پر نمایاں کیا۔

اسلام آباد میں مختلف ادوار کے سیاسی احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں کے دوران بھی پمز خبروں میں رہا۔ مظاہرین، پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے زخمی ہونے کی صورت میں انہیں پمز سمیت دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ آنسو گیس، تصادم، حادثات اور دیگر واقعات میں زخمی افراد کے علاج کے باعث اسپتال کی ایمرجنسی سروسز بھی توجہ کا مرکز بنتی رہیں۔

قدرتی آفات اور بڑے حادثات

زلزلوں، عمارتوں کے حادثات، ٹریفک حادثات اور دیگر بڑے سانحات کے موقع پر پمز نے زخمیوں اور متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کیں۔ قومی ریفرل مرکز ہونے کے باعث پیچیدہ نوعیت کے مریضوں کو بھی یہاں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔

پمز کی شہرت کی ایک بنیادی وجہ اس کا وسیع ایمرجنسی نظام بھی ہے۔ دارالحکومت اور قریبی علاقوں میں کسی بڑے حادثے یا ہنگامی صورتحال کے دوران پمز کو فوری طور پر فعال کیے جانے والے اہم طبی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کمیشن کا مودی سے منسلک آر ایس ایس ارکان پر پابندیوں اور موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے کا مطالبہ

پنجاب میں اسموگ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال، نوبل فیملی کا وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت کو خراجِ تحسین

بدخشاں میں جھڑپوں سے افغانستان میں مزید اندرونی نقل مکانی کا خدشہ

ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار، معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی مؤثر قرار

پاکستان میں آتشزدگی کے بڑے سانحات کیسے رونما ہوئے؟

ویڈیو

مولانا اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو استعمال کررہے ہیں، اپوزیشن اتحاد نہیں چل پائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

کالم / تجزیہ

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ